مودی حکومت نے سونم وانگچک کو بات چیت سے دور رکھنے کے لیے حراست میں لیا: اہلیہ
نئی دہلی: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت جانتی ہے کہ ان کے شوہر سیاسی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے لہذا اس نے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انگمو نے نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ بھارتی حکومت کو پتہ ہے کہ وانگچگ کو توڑا نہیں جاسکتا اسی لیے انہیں لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) سے دور کیا گیا جو لداخ خطے کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔انگمو نے کہا کہ ان کے شوہر” ایل اے بی یا کے ڈی اے “میں سے کسی کے رکن نہیں تھے لیکن ان کی ساکھ اور لداخ کے حقوق کی وکالت کی وجہ سے دونوں تنظیموں نے انہیں جولائی میں یکطرفہ طور پر خود میں شامل کر لیا۔
انہوں نے کہا بھارتی حکومت کو خدشہ تھا کہ اگر وہ بات چیت کا حصہ بنے تو وہ لداخ کے لیے بہترین چیز پر اصرار کریں گے اورمحض علامتی یقین دہانیوں پر ہرگز کان نہیں دھریں گے۔ انہوںنے کہا کہ وانگچک کی نظربندی کا بنیاد ی مقصد مذاکراتی محاذ کو کمزور کرنا ہے ۔






