بھارت : کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کو "سب سے بڑا ڈرامہ باز” قرار دیدیا
نئی دلی: بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے اپوزیشن کو ڈرامہ باز کہنے پر وزیراعظم نریندر مودی کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ مودی جی خود سب سے بڑے ڈرامہ باز ہیں جو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پارلیمانی اصولوں کوپامال کر رہے ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عام آدمی کو درپیش مسائل حل کرنے کی بجائے نریندر مودی نے ایک مرتبہ پھر اپنے معروف ‘ڈرامہ بازی کے خطاب’ کے ذریعے عوامی شکایات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے گزشتہ گیارہ سال کے دوران پارلیمانی آداب اور طریقہ کار کی دھجیاں اڑائیں اور مودی حکومت کی ان خلاف ورزیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے ڈرامے کو ختم کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، معاشی عدم مساوات اور ملکی وسائل کی لوٹ مار جیسے حقیقی مسائل پر بحث کا آغاز کرناچاہیے۔اس سے قبل نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آغاز سے قبل کہاتھا کہ پارلیمنٹ”فیصلہ کرنے کی جگہ ہے، نہ کہ ڈرامہ کرنے کی”۔ تاہم، لوک سبھا کااجلاس پہلے گھنٹے میں ہی اپوزیشن کے شدیداحتجاج کی وجہ سے دو بار ملتوی کیا گیا۔ملکا رجن کھڑگے نے واضح کیاکہ پارلیمنٹ کے گزشتہ مانسون اجلاس میں مودی حکومت نے 12بل بحث کے بغیر منظور کرائے تھے۔ انہوں نے عوام کو یاد دلایا کہ مودی حکومت نے پہلے کسانوں کے خلاف "کالے قوانین” جی ایس ٹی قانون اور بھارتیہ نگریک سرکشا سنہیتا کو پارلیمنٹ میں بحث کرائے بغیر منظور کیاتھا۔کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کا یہ بیان "منافقت” پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی خود سب سے بڑا ڈرامہ باز ہیں۔انہوں نے کہاکہ مودی جی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو عوامی مسائل اٹھانے کا موقع دینے کے بجائے اسے اپنے طریقے پرچلانا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔







