پاک بحریہ کے سربراہ کا دورہ بنگلہ دیش دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کا عکاس ہے

اسلام آباد:پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے تعلقات ایک خاموش لیکن اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں جو خلیج بنگال میں بھارت کے بڑھتے ہوئے فوجی تسلط کی وجہ سے خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا نتیجہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کا ڈھاکہ کا دورہ بنگلہ دیش کے اپنے دفاعی تعلقات کو متنوع بنانے اور بھارت پر انحصار کم کرنے کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ایڈمرل نوید اشرف کل چار روزہ سرکاری دورے پر بنگلہ دیش پہنچے جو 1971کے بعد پاکستانی بحریہ کے کسی بھی سربراہ کا پہلا دورہ ہے۔ اپنی آمد کے فوراً بعد نوید اشرف نے آرمی ہیڈ کوارٹرز میں بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزمان سے ملاقات کی۔ دونوں سربراہوں نے دوطرفہ دفاعی تعاون اور فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دو طرفہ تربیت، سیمینارز اور دوروں کے ذریعے فوجی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔یہ دورہ پاکستان کے بحری جہاز پی این ایس سیف کے جنوب مشرقی شہر چٹوگرام میں بنگلہ دیش کی مرکزی بندرگاہ پر چار روزہ خیرسگالی دورے کے لیے لنگر انداز ہونے کے ایک دن بعد ہوا جو 12 نومبر تک جاری رہے گا۔ اس سے قبل محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد ایک کارگو جہاز نے بنگلہ دیش کا دورہ کیاتھا جو گزشتہ سال پہلی بار بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔پاک بحریہ نے ایک بیان میں کہا کہ مربوط بات چیت بنگلہ دیش کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مضبوط اور بحری تعاون کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں اس وقت سے خاصی بہتری آئی ہے جب سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 5اگست 2024کو ایک عوامی بغاوت کے نتیجے میں معزول کر دیا گیا اور وہ بھارت فرار ہونے پر مجبور ہوئیں۔ بھارتی بحریہ کی توسیع، دریائوں کے کنٹرول اور مغرب سے منسلک مشقوں کے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے بنگلہ دیش اپنی خودمختاری کے تحفظ اور پاکستان کے ساتھ نئے دفاعی تعاون کے ذریعے زیادہ علاقائی خود مختاری کے حصول کے لیے متوازن شراکت داری کا خواہاں ہے۔بحر ہند میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی، انڈومان اور نکوبار جزائر پر فوجی اڈے اور اریہانت کلاس کی آبدوزیں بنگلہ دیش کی سمندری خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ اس کے علاوہ خلیج بنگال میں بھارت-امریکہ-جاپان کی مسلسل بحری مشقیں مغربی اتحاد کی طاقت کا مظہر ہیں جو خطے کی غیر جانبداری اور بنگلہ دیش کی خودمختاری کے لئے نقصاندہ ہیں۔ گنگا اور تیستا ندیوں پر بھارت کے ڈیم بنگلہ دیش کی طرف میٹھے پانی کے بہائو کو روکتے ہیں جس سے بنگلہ دیش کے ڈیلٹا ماحولیاتی نظام اور ساحلی دفاع کو نقصان پہنچتا ہے۔پاکستان سے قربت کا مقصد بھارت کے جارحانہ بحری عزائم پر بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث بنگلہ دیش کی بحری طاقت کو تقویت دینا ہے۔دوطرفہ تربیت اور دفاعی تبادلے سمندری مفادات کو محفوظ بنانے کے ڈھاکہ کے حق کے لیے پاکستان کی حمایت کی عکاسی کرتے ہیں۔اس نئے تعاون کے ذریعے دونوں ممالک خلیج بنگال میں ایک متوازن سمندری نظام کو فروغ دینا اور جنوبی ایشیا کے پانیوں میں یکطرفہ تسلط کے خلاف مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔






