دلی دھماکے کے سلسلے میں: گرفتار ڈاکٹر شاہین کے گھر پر پولیس کا چھاپہ
موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دستاویزات قبضے میں لے لیں
نئی دلی:
بھارت کے دارلحکومت نئی دلی میں دھماکے کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور پولیس نے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر شاہین شاہد کے گھر پر چھاپہ مارا۔ ڈاکٹر شاہین کو حال ہی میں فرید آباد گرفتار کیا تھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹرشاہین کے والد شاہد انصاری نے میڈیا کو بتایاہے کہ انکی بیٹی بے قصور ہے، اسے اس مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے، اس نے اپنی زندگی لوگوں کی خدمت میں گزاری ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اللہ اور سچائی پر پورا بھروسہ ہے اور انکی بیٹی کسی غلط کام کا حصہ نہیں بن سکتی۔انہوں نے کہاکہ شاہدین نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کی اور کبھی سیاست یا اورتخریبی میں حصہ نہیں لیا۔انہوں نے کہاکہ وہ ایک ڈاکٹر ہے، مجرم نہیں۔اے ٹی ایس اترپردیش اور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے جمعرات کی صبح ڈاکٹر شاہین کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی ہے ۔ پولیس نے وہاں سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، پین ڈرائیوز اور دیگردستاویزات قبضے میں لیکر فرانزک تجزیہ کے لیے بھیج دی ہیں۔مقامی رہائشیوں کے مطابق ڈاکٹر شاہدین کا خاندان برسوں سے یہاں رہائش پذیر ہے اوروہ مہذب لوگ ہیں۔ ڈاکٹر شاہین کوویڈ لاک ڈائون کے دوران بھی مریضوں کے علاج معالجہ کیا کرتی تھیں ۔انہوں نے کہاکہ انہیں پولیس کے الزامات پر بالکل بھی یقین نہیں ہے۔اے ٹی ایس اترپردیش اور پولیس نے انکے چھوٹے بھائی ڈاکٹر پرویز انصاری کے گھر پر بھی چھاپہ مارااور تلاشی لی ہے۔ تاہم پولیس نے پرویز اور اسکے بھائی شعیب سے تفتیش کے بعد انہیں چھوڑ دیاہے ۔





