بھارت میں انتہائی تابکار موادکی آزادانہ خریدو فروخت نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجادی

 

نئی دہلی 31 اگست (کے ایم ایس)بھارت میں کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ(سی آئی ڈی) نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے رواں ہفتے 573 ملین ڈالر سے زائد مالیت کاانتہائی تابکارمواد کیلی فورمیم رکھنے پر دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر میں بالخصوص پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک میں خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سی آئی ڈی افسران نے تابکار مواد کے چار ٹکڑوں کے ساتھ دو افراد کو کولکتہ میںگرفتار کیا۔یہ بات قابل ذکر ہے گزشتہ چار ماہ کے دوران یہ بھارت میں انتہائی تابکار مواد کی غیر قانونی خریدو فروخت کاتیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل میڈیا نے بھارت میں مئی اور جون 2021 میں دو الگ الگ واقعات میں 7 کلو گرام اور 6 کلو گرام یورینیم ضبط کئے جانے کی خبریں دی تھیں۔ بار بارسامنے آنے والے ان واقعات نے بھارت میں ایٹمی اور دیگر تابکار مواد کے تحفظ ، سکیورٹی اور ملک میں اس طرح کے مواد کے لئے بلیک مارکیٹ کی ممکنہ موجودگی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کردی ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک بیان میں تابکار مواد کی چوری کے بارے میں خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے بھارت میں اس طرح کا ایک اور واقعہ سامنے آنے پرشدید تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان نے کہاکہ یہ بین الاقوامی برادری کے لئے سخت تشویش کا معاملہ ہے کہ کیلیفورمیم جیسا ایک انتہائی نایاب تابکارموادبھی چوری ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابقہ واقعات میں گرفتار افراد نے واضح طور پر تابکار مواد بھارت کے اندر سے خریدکر حاصل کیا تھا۔ بیان میں کہا گیاکہ پاکستان ایک بارپھر اس بات پر زوردیتا ہے کہ ان واقعات کی مکمل تحقیقات کی جائے اور اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: