بھارت:بہار کے انتخابات میں ووٹ کو خریدا گیا اور انتخابی ضابطہ اخلاق کو روندا گیا:بھارتی صحافی

نئی دہلی : معروف بھارتی صحافی اور تجزیہ کار راجدیپ سرڈیسائی نے بھارت کی ریاست بہار میں حالیہ انتخابات پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کو ”ووٹ خریدی الیکشن” قرار دیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں راجدیپ سرڈیسائی نے اپنے تجزیے اور تبصرے میں بہار کے انتخابات کو ووٹ خریدی الیکشن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ چوری کے الزام بھول بھی جائیں تو میری ذاتی رائے ہے کہ بہار کے انتخابات میں ووٹ کو خریدا گیا اور جب آپ ووٹ کی بولی لگا سکتے ہیں تو اسے چرانے کی کیا ضرورت ہے؟بھارتی صحافی نے کہا کہ ایسا ہی کچھ ایک سطح پر بہار کے الیکشن میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ کی روزگار اسکیم کے نام پر 1کروڑ 40لاکھ خواتین کی جیبوں میں 10ہزار روپے فی کس ڈالے گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ سب انتخابی مہم کے دوران کیا گیا، ایسا کرکے الیکشن ضابطہ اخلاق کو روندا گیاجو میری رائے میں غیر قانونی اقدام ہے۔راجدیپ سرڈیسائی نے کہا کہ میں معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ الیکشن کمیشن اس دوران مجموعی طور پر کمپرومائز رہا، ذرائع کے مطابق اس نے جواز تراشا ہے کہ یہ پہلے سے جاری اسکیم ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انتخابات سے صرف 1ہفتہ پہلے ہر خاتون کو 10ہزارروپے دینے کے اعلان کو پہلے سے جاری اسکیم کہا جاسکتا ہے؟ ہوسکتا ہے کچھ کے نزدیک یہ اقدام صحیح ہو لیکن اخلاقی طور پر یہ بالکل غلط ہے۔بھارتی صحافی نے کہا کہ خواتین پہلے سے ہی وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بہتر سمجھتی ہیں کیونکہ انہوں نے ان کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، ان خواتین کے لیے یہ 10ہزارروپے بونس ثابت ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے بہارکے انتخابات میں 243میں سے 202نشستیں جیت لی ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 6اور 11نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ریکارڈ 66.91فیصد ٹرن آوٹ رہا جو 1951میں بہار کے پہلے انتخابات کے بعد سب سے زیادہ ہے۔







