بھارت میں کشمیریوں کے خلاف بڑھتاہوا تعصب ،آسام میں 44کشمیری یرغمال

گواہاٹی :بھارت میں کشمیریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کے ایک واقعے میں ریاست آسام کے ضلع تینسوکیا میں مقامی لوگوں نے44 کشمیریوں کو پکڑ کر ریلوے پولیس کے حوالے کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع سے تعلق رکھنے والے مزدوروں پر مشتمل اس گروپ کو مقامی لوگوں نے مشکوک قراردے کر ریلوے پولیس فورس کے حوالے کر دیا ۔ان کشمیریوں کو ایک ٹھیکیدار اروناچل پردیش میں ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لیے لایا تھا۔ مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ 10نومبر کے دہلی دھماکے کے بعد مشتبہ دکھائی دے رہے تھے جس کے بعدانہیں حکام کے حوالے کر دیاگیا۔ اس واقعے سے پورے بھارت میں کشمیریوں کے امتیازی سلوک اوران کو شکوک و شبہات کی نظرسے دیکھنے کے رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔ یرغمال بنائے گئے کشمیریوں نے بتایا کہ وہ سویرے سویرے ٹرین کے ذریعے وہاں پہنچے تھے اور وہ محض روزگار کے لیے سفر کر رہے تھے۔انہیں محض کشمیری شناخت کی بنیاد پر ایذا رسانی اور جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بی جے پی حکومت کے دور میں کشمیریوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور عدم رواداری کی عکاسی کرتا ہے جہاں عام کشمیریوں کو بدنام کیا جارہا ہے اور ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے شکوک وشبہات سے بھارت کی مذہبی اورنسلی اقلیتوں میں خوف وہراس پھیل جاتا ہے، سماجی تقسیم گہری ہوجاتی ہے اور اقلیتوں کی پسماندگی کو تقویت ملتی ہے۔






