بھارت

کانگریس نے اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات پر بھارت کی سفارتکاری پر سوال اٹھایا

نئی دہلی:بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پر ملک کی خارجہ پالیسی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکریٹری جیرام رمیش نے ایک بیان میں امید ظاہرکی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک پائیدار امن عمل کا باعث بن سکتے ہیں،تاہم انہوں نے خبردارکیا کہ علاقائی کشیدگی بالخصوص اسرائیل کو شامل کرنے سے ایسی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کے سفارتی رویے پر سوال اٹھایا اور اسے متضاد اور تزویراتی گہرائی سے خالی قرار دیا۔ جے رام رمیش نے پاکستان کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے میزبان کے طور پر ابھرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے اسے الگ تھلگ کرنے کی کوششوں کے باوجود پاکستان سفارتی جگہ دوبارہ حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوا۔کانگریس کے رہنما نے کہا کہ نئی دہلی واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کامو¿ثر طریقے سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ یک طرفہ بات چیت پر تنقید کی۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے برکس کا حصہ ہونے کے باوجود امن کو فروغ دینے کے لیے کوئی پہل نہیں کی اور سفارتی موقع ضائع کر دیا۔مغربی ایشیا میں استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ خطے میں امن ضروری ہے اور کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button