دہلی ہائی کورٹ نے لال قلعہ دھماکے کے الزام میں گرفتار کشمیری نوجوان کو وکیل سے ملاقات کرنے سے روک دیا

نئی دہلی:نئی دلی ہائیکورٹ نے لال قلعہ دھماکے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کشمیری نوجوان جاسر بلال وانی کو تحقیقاتی ادارے” نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی“ (این آئی اے) کے ہیڈکوارٹر میں اپنے وکیل سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس سوارانا کانتا شرما پر مشتمل ہائیکورٹ کے یک رکنی بنچ نے ملاقات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جاسر بلال ٹرائل کورٹ کی طرف سے دیا جانے والا کو ئی حکمنامہ دکھانے میں ناکا م رہے ہیں ، وہ(جاسر) کوئی خاص شخص نہیں ہے انہیں مروجہ طریقہ کار کی پیروی کرنا ہوگی۔
بھارتی پولیس نے مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کے رہائشی جاسر بلال کو 17نومبر کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے ان پر دلی دھماکے میں سہولت کاری فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ایک ٹرائل کورٹ نے انہیں دس روز کے لیے این آئی اے کی تحویل میں دیا ہے ۔
وانی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے انکی ” این آئی اے“ کے دفتر میں جاسر سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم جاری کرنے سے انکار کیا ہے تاہم وہ ہائیکورٹ کو اس حوالے سے ٹرائل کورٹ کا حکمنامہ دکھانے میں ناکام رہے ۔





