بھارت: راجستھان میں دو عیسائی مشنریوں کے خلاف مقدمہ درج

جے پور: بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے نئے نافذ کردہ انسداد تبدیلی مذہب قانون کے تحت پہلا مقدمہ کوٹا میں دو عیسائی مشنریوں کے خلاف درج کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے رواںماہ کے شروع میں بیر شیبا چرچ میں تین روزہ اجتماع کے دوران لوگوں کو جبری طورپر مذہب تبدیل کروایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندو انتہا پسند تنظیموں وشو اہندو پریشد اور بجرنگ دل کے عہدیداروں کی جانب سے شکایت درج کئے جانے کے بعد ملزمان کو گرفتارکیاگیاہے جن میںدہلی سے تعلق رکھنے والے چندی ورگیز اور کوٹا کے ارون جان شامل ہیں ۔ شکاریت میں الزام لگایاگیا ہے کہ 4سے 6 نومبر تک منعقدہ مذہبی اجتماع کے دوران لوگوں کو لالچ دیکر مذہب تبدیل کرایاگیا۔ایف آئی آر میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مشنریوں نے ہندو برادری کے بارے میں توہین آمیز باتیں کیں اور راجستھان حکومت کو” شیطان کی بادشاہت” قرار دیا۔








