بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے بھارت سے تیسرا باضابطہ مطالبہ

ڈھاکہ:بنگلہ دیش کی حکومت نے بھارت سے ایک بار پھر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ میں امور خارجہ کے نگران توحید حسین نے ڈھاکہ میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ بھارت فرار ہونے والی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے ایک اور خط ارسال کیا گیاہے۔مقامی اخبار پروتھوم الو کے مطابق شیخ حسینہ کے فرار کے بعد سے ان کی واپسی کے لیے کی جانے والی یہ تیسری سرکاری درخواست ہے۔یاد رہے کہ عدالت کی جانب سے حسینہ کو انسانیت سوز جرائم کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائے جانے کے بعد، ڈھاکہ میں وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دو طرفہ معاہدے کے تحت سابق سربراہ کی واپسی کو یقینی بنانا بھارت کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔اس کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ انہوں نے عدالتی فیصلے کو نوٹ کر لیا ہے، تاہم انہوں نے حوالگی کی درخواست پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، انڈیا نے ڈھاکہ کے تازہ ترین خط کا بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔اقوام متحدہ کے مطابق شیخ حسینہ واجدکی جانب سے اقتدار بچانے کی کوشش میں کیے گئے کریک ڈان کے نتیجے میں 1400 افرادہلاک اور یہی ہلاکتیں ان کے خلاف مقدمے کی بنیادی وجہ بنیں۔شیخ حسینہ کو اسی ہفتے طلبہ کی تحریک کے خلاف قتل عام پر مبنی کریک ڈا ن کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔78 سالہ حسینہ واجد اگست 2024میں اپنی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے بھارت میں روپوش ہیں، بطور وزیراعظم انہیں نئی دہلی کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔






