کینیڈا میں تاریخی خالصتان ریفرنڈم، 53ہزار سکھوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا

اوٹاوا:کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم میں 53ہزار سے زائد سکھوں نے بھارتی پالیسیوں کے خلاف اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریفرنڈم کے دوران سکھ برادری نے بھارتی حکومت کے جابرانہ اقدامات اور مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔اونٹاریو، البرٹا، برٹش کولمبیا اور کیوبک کے سکھ ووٹرز میگ نیب کمیونٹی سنٹرمیں جمع ہوئے ۔سکھ فار جسٹس کے مطابق ریکارڈ ٹرن آئوٹ نہ صرف پنجاب کی بھارت سے آزادی کے سکھوں کی حمایت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اوٹاوا کی نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات پر عوامی ناراضی کابھی اظہار ہے۔سکھ فار جسٹس کے مطابق بھارتی ریاستی ظلم اور سیاسی دبا کے باوجود خالصتان تحریک عالمی سطح پر تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے اور بڑی تعداد میں سکھ آزاد ملک کے قیام کے مطالبے کے ساتھ میدان میں آ چکے ہیں۔تنظیم کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے ریفرنڈم کو ہندوتوا کے دہشت گرد مودی کی گولی اور بم کا جواب قرار دیا اور کہا کہ مودی حکومت کی سیاسی موت صرف بیلٹ اور عالمی احتساب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے مزید کہا کہ 1984کی سکھ نسل کشی کے بعد اب بھارتی حکومت پنجاب میں معاشی دبا ئواور استحصال کے ذریعے سکھ برادری کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین ایجنسیز پہلے ہی بھارتی نیٹ ورکس کی نشاندہی کر چکی ہیں جو مبینہ طور پر سکھوں کے قتل اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔






