پاکستان

سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے خلاف قرارداد پیش

سندھ کے مختلف شہروں میں راج ناتھ سنگھ کے بیان کے خلاف احتجاجی ریلیاں

کراچی:
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ کو بھارت کا حصہ قراردینے سے متعلق اشتعال انگیز بیان کے خلاف کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کر دی گئی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سندھ اسمبلی کے اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں رکن مکیش چاولہ نے بھارت کے وزیر دفاع کے سندھ سے متعلق بیان کے خلاف قرارداد پیش کی ۔ قرارداد پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھارت کے بیان کی سخت مذمت کی اور واضح کیا کہ سندھ ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا۔وزیر اعلی سندھ مراد علیٰ شاہ نے کہا کہ بھارت کی گیدڑ بھبکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، سندھ ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا، مودی حکومت دریا کو ہتھیار بنا کر استعمال کرنا چاہتی ہے جس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے بھارت کے وزیر دفاع کے بیان کو کھسیانی بلی کے کھنبا نوچنے کے مترادف قرار دیا۔پیپلز پارٹی کے دیگر ارکان اسمبلی نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم سب کے سامنے ہیں اور پاکستان کی افواج ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے ارکان نے بھی بھارت کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو افواج پاکستان کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں، پاکستان ہمیشہ ایک ہے۔
بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے اشتعال انگیز بیان کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی جانب سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جن میں عوام نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔دادو میں گورنمنٹ پرم آنند لال ہائی اسکول کے طلبہ اور اساتذہ نے پرنسپل کشور لال اور پیسو مل کی قیادت میں اسکول سے مین ڈی ایچ کیو اسپتال تک ریلی نکالی۔شرکا نے بھارتی وزیر کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ نہ کبھی بھارت کا حصہ رہا ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ سندھ پاکستان کا دل ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی متنازعہ بیان ناقابلِ قبول ہے۔جامشورو میں بھی اسی طرح کی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے ڈسٹرکٹ کونسل روڈ سے مین جامشورو روڈ تک مارچ کیا اور بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کی سخت مذمت کی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button