مقبوضہ کشمیر :ساتھی پولیس اہلکار پر وحشیانہ تشدد میںملوث 8بھارتی پولیس اہلکاروں کی درخواست ضمانت مسترد
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی ایک عدالت نے دوران حراست تشدد میں ملوث ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت8بھارتی پولیس اہلکاروں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کپواڑہ نے فروری 2023میں جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر میں ایک پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان پر دوران حراست وحشیانہ تشدد میں ملوث ان پولیس اہلکاروں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔اس مقدمے کی تفتیش بھارتی سپریم کورٹ کی ہدایات پر تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے کی تھی۔ بعد ازاں متاثرہ پولیس اہلکار کو جنسی طورپر ناکارہ بنائے جانے کے انکشاف کے بعد تحقیقات دوربارہ شرو ع کی گئی تھیں ۔ بھارتی پولیس نے مذکورہ اہلکار کے خلاف یہ تمام کارروائی منشیات کے ایک جھوٹے مقدمے کی تحقیقات کے نام پر کی۔اس واقعے سے ظاہر ہوتاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز انسانی حقو ق کی سنگین پامالیوں خصوصا دوران حراست تشدد میں ملوث ہیں ۔سی بی آئی کی چارج شیٹ کے مطابق، کانسٹبل خورشید احمد چوہان کو فروری 2023میں غیر قانونی طور پر 6دن تک حراست میں رکھا گیاتھا اور اس دوران اسے اعتراف جرم کرنے پر مجبور کرنے کیلئے مسلسل وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کپواڑہ نے واقعے میں ملوث اہلکاروں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اعجاز احمد نائیک، سب انسپکٹر ریاض احمد ، سپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان، تنویر احمد ، سارجنٹ کانسٹیل شاکر حسین ، الطاف حسین بھٹ اور کانسٹبل شاہ نواز احمد کی ضمانت کی درخواست مسترد کی ہے ۔





