انسانی حقوق کے عالمی دن پرسی پی جے کا بھارت سے جیلوں میں بند صحافیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ
نئی دہلی: نیویارک میں قائم صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے)نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے دن کے موقع پر تمام نظربند صحافیوں کو فوری طور پر رہا کرے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی پی جے نے خبردارکیاکہ مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی طرف سے صحافیوں کی مسلسل نظربندی اورانہیںہراساں کرنے سے عالمی سطح پر بھارت کی جمہوری ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔سی پی جے نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ صحافی عرفان معراج اور روپیش کمار سنگھ انسانی حقوق کا دن سلاخوں کے پیچھے گزاریں گے جو ملک میں آزادی صحافت کے لیے سکڑتی ہوئی جگہ کی علامت ہے۔سی پی جے کے ایشیا پیسیفک کے ڈائریکٹرBeh Lih Yi نے خط میں لکھا کہ بھارت کا صحافیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کا مسلسل استعمال مودی کے اپنے دعوئوں کی نفی ہے کہ جمہوریت ہمارے ڈی این اے میں شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ جیل میں بند صحافی روپیش کمار سنگھ کے ساتھ سلوک جو تین سال سے زیادہ عرصے سے قید ہیں، من گھڑت الزامات کے تحت نظربند صحافیوں کو درپیش غیر انسانی حالات کی عکاسی کرتا ہے جن میں طبی امداد سمیت بنیادی سہولیات سے محرومی اور طویل قید تنہائی شامل ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنونشنوں پر دستخط کررکھے ہیں اور ایک ریاست کے طور پراس نے اپنے آئین کے آرٹیکل 19(1)(a)میں اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دے رکھی ہے ، اس لئے وہ قانونی طور پر صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کا پابند ہے۔ سی پی جے نے خبردار کیا کہ مسلسل جبر سے بھارت کی جمہوری ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ سی پی جے نے تمام نظربندصحافیوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کو اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے اور انتقام کے خوف کے بغیر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ رواں سال 100سے زیادہ ممالک کے 1,500سے زیادہ صحافیوں نے سی پی جے کی عالمی یکجہتی کارروائی میں شمولیت اختیار کی جس نے دنیا کی حکومتوں خصوصا بھارت سے اپیل کی کہ وہ کالے قوانین کے استعمال کو روکیں اور پریس پر حملوں کے لیے استثنیٰ کو ختم کریں۔سی پی جے نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر بھارت کی ساکھ صحافیوں کے خلاف جاری کریک ڈان کو ختم کرنے اور ایک ایسے ماحول کو یقینی بنانے پر منحصر ہے جہاں میڈیا محفوظ اور آزادانہ طور پر کام کر سکے۔





