بھارت انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے
جنوری1989سے 96ہزار480کشمیریوں کو شہید کیاجاچکا ہے

اسلام آباد: آج جب دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیرمیںبھارت کا جابرانہ قبضہ، تشدد اور سیاسی ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے اس دن کی مناسبت سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ10دسمبر 1948کا انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ ایک سنگ میل تھا لیکن کشمیریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھارت کے رسمی وعدوں کے باوجود لاکھوں کشمیریوں کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں تسلیم شدہ زندگی، آزادی، وقار، نقل و حرکت، اظہار رائے، جائیداد اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔1989کے بعد سے ریاستی تشدد میں 96ہزار480کشمیریوں کو شہید کیاجاچکا ہے جن میں 7,400سے زائد کو دوران حراست قتل کیاگیا ہے۔ 110,000سے زائد گھر وں کوتباہ جبکہ179,759افراد کو گرفتار کیا گیا۔ شہادتوں کے نتیجے میں 22,991خواتین بیوہ اور108007بچے یتیم ہوئے جبکہ 11,269خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔اس دوران 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کیاگیا۔ بھارت کی جانب سے 2019میں دفعہ370اور 35Aکی منسوخی کے بعد سے ان مظالم میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ تب سے اب تک 1,047کشمیریوں کو شہید اور32,816کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ1,168گھروں اورعمارتوں کو تباہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں پیلٹ گن سمیت مہلک ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کو اجاگرکیاگیا ہے جو بڑے پیمانے پر بینائی سے محرومی اور مستقل معذوری کا سبب بنے ہیں۔ متاثرین کی گواہیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس سے ان ہتھکنڈوں کی بربریت واضح ہوتی ہیں۔
اقتصادی جبر بھارت کی حکمت عملی کا بنیادی جزو ہے۔ صنعتی تباہی، گھروں کی مسماری، صرف 2025میں 192جائیدادوں کی ضبطی، مسلمان سرکاری ملازمین کی برطرفی اور کنٹرول لائن کے آرپار تجارت کی بندش نے معاشی مایوسی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بلاجواز گرفتاریوں، گھروں کی مسمار ی ،تشدد، اور مواصلاتی بلیک آئوٹ سمیت حالیہ ظالمانہ کارروائیوں کی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے مذمت کی ہے جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے اقدامات متعدد بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کو اجتماعی سزادینے، نگرانی، آبادیاتی تبدیلی اور سیاسی اختلاف کو دبانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں موجودہ خلاف ورزیوں کوتاریخی حوالہ دیکرایک آئینی فراڈ قراردیا گیا ہے جس کا آغاز 1953میں شیخ عبداللہ کی برطرفی سے ہوا اور 2019میں اندرونی خودمختاری کی منسوخی پرمنتج ہوا۔
رپورٹ میں کہاگیاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی منظم خلاف ورزی ہیں۔ فوجی قبضہ، ڈیموگرافک انجینئرنگ، معاشی رکاوٹین اور شہری آزادیوں کو دبانا فوری عالمی مداخلت کا تقاضا کرتے ہیں۔جموں و کشمیر آج محض ایک متنازعہ علاقہ نہیں بلکہ منظم جبر کا مقام ہے جہاں لوگوں کے انسانی حقوق معطل ہیں ، ان کی آوازیں دبائی جارہی ہیں اور انسانی وقار سے انکار کیا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوںBen Saul, Morris Tidball-Binz, Nazila Ghanea, Balakrishnan Rajagopal, Nicolas Levrat, Paula Gaviria, Irene Khan, اور Mary Lawlorنے24نومبر2025کو مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کی طرف سے حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویس کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اندھا دھند کارروائیوںکے نتیجے میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں سمیت تقریبا 2,800افراد کو گرفتارکیاگیا،بہت سے لوگوں کو پی ایس اے اور یواے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت نظربند کیا گیا۔ ماہرین نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کو انسانی وقار کو کچلنے کے لیے استعمال نہ کرے۔
حریت رہنمائوں، صحافیوں اور کارکنوں سمیت 4000سے زائد سیاسی قیدی بھارتی جیلوں میںنظربند ہیں۔ بھارتی فورسزگولیوں، پیلٹ گن، آنسو گیس اور پاوا شیل کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے ہزاروں افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے ہیں۔ جولائی 2016سے اب تک صرف پیلٹ گنزکے استعمال سے 7000سے زائد کشمیری زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے 200سے زیادہ مستقل طور پر اپنی بینائی کھو چکے ہیں۔میڈیا کی آزادی شدید خطرے میں ہے۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA)نے جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا اور ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین کے خلاف من گھڑت الزامات عائد کئے۔ آرایس ایف اور آئی ایف جے سمیت عالمی نگراں اداروں نے چھاپوں کی مذمت کی اور الزامات کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
صرف 2025میں 41رہائشی مکانات کو تباہ کیا گیا اور زمینوں، گھروں، دکانوں اور دفاترسمیت 192سے زائد املاک ضبط کی گئیں۔ بے روزگاری اور غربت میں اضافے کے لئے سرکاری ملازمین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہوئے معطل کیا گیا ۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں نوجوانوں کی بے روزگاری تقریبا 32فیصد ہے۔
بھارت نے5 اگست 2025کوکشمیر کے بارے میں 25کتابوں کوبھات کی سالمیت کے لئے خطرہ قراردے کران پر پابندی عائد کردی جن میں کشمیری، بھارتی اور بین الاقوامی مصنفین کی تصنیفات شامل ہیں ۔ دانشوروں، مصنفین اور صحافیوں نے اس اقدام کو کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور تاریخی حقائق کو مٹانے کی کوشش قراردے کر اس کی مذمت کی۔
کشمیری خواتین کو مسلسل تشدد، ہراسانی اور گرفتایوں کا سامنا ہے۔ گزشتہ 37سالوں میں ریاستی دہشت گردی کے تحت 2356خواتین کوشہید اور 11,269 کو بے حرمتی کا نشانہ بنایاگیا۔ فوجی کارروائیوں، بلاجواز گرفتاریوں اور ریاستی جبر میں خواتین کو خاص طورپر نشانہ بنایا جارہا ہے۔






