مودی حکومت ماحولیاتی توازن کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے، کانگریس

نئی دلی: کانگریس نے کہا ہے کہ اراولی پہاڑیو ں کی از سرنو تشریح سے 90فیصد سے زائد پہاڑیاں غیر محفوظ ہو جائیں گی اور انہیںکانکنی اور دیگر سرگرمیوں کیلئے کھول دیا جائے گا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکرٹری اور سابق وزیر ماحولیات جئے رام رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جب ماحولیاتی مسائل درپیش ہوتے ہیں تو وزیر اعظم نریندر مودی کی ”گلوبل ٹاک اور لوکل واک“ کے درمیان کوئی رشتہ نہیں رہ جاتا، بی جے پی حکومت ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کو کمزور او ر فضائی آلودگی کے قوائد میں نرمی لاتے ہوئے ماحولیاتی توازن پر دانستہ حملہ کر رہی ہے ۔ نئی تشریح کے تحت اراولی ہل زمین کی ایک شکل ہے جو مقامی قطعہ زمین سے کم از کم 100میٹر بلند ہے اور اراولی رینج ایسی دو یا دو سے زائد پہاڑیوں کا ایک سلسلہ ہے جو ایک دوسرے سے 500میٹر سے کم کے فاصلے پر واقع ہے۔ انہوںنے کہا کہ مودی حکومت کی اراولی کی نئی تشریخ تمام ماہرین کی رائے کے خلاف ہے او ر خطرناک و تباہ کن ہے۔
جئے رام رمیش نے کہا کہ فارسٹ سروے آف انڈیا کے ڈاٹا کے مطابق صرف 8.7فیصد اراولی ہل 20میٹر سے زیادہ اونچے ہیں جو 100میٹر سے تجاوز کرتے ہیں، اگر ہم پورے اراولی ہلز کا ایف ایس آئی کی تشریح کے تحت جائزہ لیں تو ایک فیصد بھی 100میٹر سے متجاوز نہیں ہے۔ لہذا اونچائی کی حدیں مشکوک ہیں اور تمام اراولی سلسلہ بلا لحاظ اونچائی محفوظ کیا جانا چاہیے ۔یاد رہے کہ اراولی سلسلہ کوہ بھارت کی ریاست راجستھان میں واقع ہے۔
KMS-12/M








