بھارت

ہریانہ :”ای ڈی“ نے الفلاح یونیورسٹی کے140کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کر لیے

تحقیقاتی ادارے نے گروپ چیئرمین جواد صدیقی کیخلاف فرد جرم دائر کر دی

نئی دہلی:بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی دارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ریاست ہریانہ میں قائم الفلاح یونیورسٹی کے تقریباً 140 کروڑ روپے کے اثاثے ضبط کر لیے ہیں اور الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کے خلاف فرد جرم دائر کر دی ہے۔ مبصرین اس اقدام کو قانونی و مالیاتی بے ضابطگیوں کے بہانے مسلمانوں کے زیرانتظام تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی مودی حکومت کی مذموم پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضبط کیے جانے والے اثاثوں میں یونیورسٹی کی 54 ایکڑ اراضی جو فرید آباد کے علاقے دھوج میں واقع ہے، یونیورسٹی کی عمارتوں کے ساتھ ساتھ مختلف سکولوں، شعبہ جات اور ہاسٹلز کی رہائش کی سہولیات بھی شامل ہیں۔ ضبطی کی یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت کی گئی ۔
یہ یونیورسٹی گزشتہ برس 10 نومبر کو دہلی میں لال قلعہ کے علاقے میں ہونے والے دھماکے کے بعد بھارتی ایجنسیوں کے نشانے پر آگئی تھی۔ ایجنسیوں نے الزام لگایا ہے کہ الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر عمر النبی اس واقعے میں ملوث تھا ۔ ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک خودکش کار بم حملہ تھاجس میں عمر البنی بھی مارا گیا۔بھارتی تحقیقاتی اداروں نے اس دھماکے کے سلسلے میں اب تک کم ازکم 9افراد گرفتار کیے ہیں جن میں زیادہ ترکشمیر ی ڈاکٹر ہیں۔بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں کشمیر میں عمر النبی کے گھر کو بھی بارودی موا د کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔
ای ڈی نے جواد احمد صدیقی کو بھی نومبر میں منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ تحقیقاتی ادارے ای ڈی نے اب صدیقی اور الفلاح ٹرسٹ کے خلاف ’ پی ایم ایل اے“ کی ایک خصوصی عدالت میں فرد جرم داخل کی ہے، جس میں ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button