

ارشد میر
2025 میں پاکستان نے عالمی سیاست میں اپنا بڑامقام بنالیا اور یہ کامیابی صرف اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اسٹریٹیجک، سفارتی اور عسکری منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔ مئی میں بھارت کے ساتھ جنگ میں حاصل ہوئی شاندار فتح نے پاکستان کو نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا بلکہ دنیا بھر میں اس کی ساکھ اور اہمیت کو بھی مضبوط کیا۔ عالمی جریدے “Carolina Political Review” نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یہ فتح پاکستان کے لیے ایک نئی سفارتی اور اسٹریٹیجک راہ ہموار کرنے کا باعث بنی جس میں واشنگٹن سمیت عالمی طاقتوں کے اعتماد کو دوبارہ حاصل کیا گیا۔
پاکستان کی کامیابی کی سب سے بڑی جہت اس کی موثر سفارت کاری تھی۔ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دینے میں پاکستان نے بے مثال کردار ادا کیا۔ امریکی صدر اور انتظامیہ نے پاکستان کو جنوبی ایشیا، خلیج اور وسط ایشیا تک رسائی میں ایک کلیدی پل کے طور پر تسلیم کیا اور گوادر کی بندرگاہ جیسے منصوبوں کو اہم اسٹریٹیجک اثاثہ قرار دیا۔ اس دوران امریکی اخبار Washington Times نے 2025 کو پاک امریکا تعلقات میں انقلاب اور فیصلہ کن موڑ کا سال قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن کی جنوبی ایشیا پالیسی میں غیر معمولی تبدیلی واقع ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں “India First” کی حکمت عملی عملاََ ختم ہو گئی اور پاکستان واضح فوقیت حاصل کر گیا۔
عالمی منظرنامے پر پاکستان کی پذیرائی کی ایک اور مثال شنگھائی تعاون کی سربراہ کانفرنس تھی جہاں وزیر اعظم شہباز شریف نے مودی کے مقابلے میں بے مثال پذیرائی حاصل کی۔ اس موقع پر پاکستانی قیادت کی مہارت اور کثیرالجہتی تعلقات کی حکمت عملی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب کسی ایک طاقت کے زیر اثر نہیں بلکہ ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ برطانوی جریدے Financial Times نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو “multi-aligner” یعنی کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا موثر معمار قرار دیا جو بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران کے ساتھ روابط میں توازن قائم رکھے ہوئے ہیں۔
اقتصادی اور دفاعی میدان میں بھی پاکستان نے بڑے اقدامات کیے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے ، ترکی کو جدید طیاروں کی فروخت اور لیبیا کے ساتھ اسلحہ کی فروخت کے بڑے معاہدے نے پاکستانی عسکری اور صنعتی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ ترکی کے ساتھ دیرینہ تعلقات نئی بلندیوں کو پہنچ گئے جبکہ بنگلہ دیش نے خطے میں پاکستان کے حق میں اپنی پالیسی یکسر تبدیل کی جس سے جنوبی ایشیا میں پاکستان کی اسٹریٹیجک حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔
علاقائی اور عالمی تعلقات میں پاکستان کی کامیابیوں کا دائرہ بڑی تیزی سے وسیع ہوتا جارہا ہے جس پر بہت سے عالمی مبصرین انگشت دنداں ہیں۔ عرب امارات کے صدر کے دورہ پاکستان، ایران، آذربائیجان، یو اے ای اور قطر کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے پاکستان کو ایک مستحکم اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔ حتیٰ کہ روس کے ساتھ تعلقات میں بھی غیر معمولی بہتری آئی جس سے پاکستان کے لیے عالمی تعلقات میں توازن قائم ہوا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے کامیاب بیرونی دورے بھی اس کامیابی کی نمایاں مثال ہیں جنہوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر فعال اور خودمختار ملک کے طور پر پیش کیا۔
عالمی میڈیا کی بھی پاکستان کی کامیابیوں پر گہری نظر رہی۔ امریکی میگزینThe Diplomat نے لکھا کہ 2025 میں پاکستان کئی برسوں بعد دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ بھارتی اخبار The Hinduاور دیگر عالمی میڈیا رپورٹس نے واضح کیا کہ مئی میں پاکستان کی بھارت پر شاندار فتح نے نہ صرف جنوبی ایشیا کا سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹیجک نقشہ بدل دیا بلکہ امریکہ سمیت اقوام عالم میں پاکستان کی جو پذیرائی ہو رہی ہے، وہ بے مثال ہے۔
پاکستان کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس نے سی پیک کے منصوبوں کے ساتھ کثیرالجہتی توازن برقرار رکھاجس نے نئے معاشی راستے کھولے اور علاقائی اقتصادی ترقی میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان کو جنوب و مغرب کی دونوں سرحدوں سے بدطینت دشمنوں کا سامنا ہے جو اسے عدم استحکام اور انتشار کا شکار کرنے کی طاق میں ہیں۔ بھارت دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے پاکستان پر بدترین دہشت گردی مسلط کئے ہوئے ہے جس سے 60 ہزار سے زائد جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو 80 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔وہ خیبر پختونخواہ ، بلوچستان، سی پیک اورتحریک آزادی کشمیر میں فعال کردار ادا کرنے والے کشمیریوں اور پاکستانیوں کو نشانہ بنانے پر مشتمل چار Dimensionsیا جہتوں کے ساتھ یہ خونی اور شیطانی منصوبہ انجام دے رہا ہے۔ اس نے 2010 میں اپنی خفیہ ایجنسی RAW کو سی پیک کو ثبوتاژ کرنے کے لئے 10 ارب روپے مختص کئے تھے۔
اس کثیر الجہتی دہشت گردی کے اثرات نہ صرف انسانی جانوں اور ملکی بنیادی ڈھانچے تک محدود ہیں بلکہ اس سے پاکستان کے افغانستان اور وسط ایشیا کے ساتھ سیاسی و تجارتی تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں اور مستقبل میں اہم تجارتی منصوبے عملی شکل اختیار نہیں کر پا رہے۔
2024 اور 25 میں بھارتی سرپرستی میں ہورہی اس دہشت گردی میں خاصا اضافہ ہوا۔ مختصرا یہ کہ پاکستان ایک عرصہ سے عملاََ حالت جنگ میں ہے مگر اسکے باوجود اسکا دنیائے سیاست وسفارت اور دفاع و عسکریت کی سطحوں پر اس طرح ابھرنا یقینا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔
الغرض، 2025 پاکستان کے لیے ایک سنہری سال ثابت ہوا جس میں عسکری، سیاسی، سفارتی اور اقتصادی محاذوں پر شاندار کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ عالمی جریدوں، امریکی، برطانوی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کامیابیاں پاکستان کو نہ صرف عالمی سطح پر قابلِ احترام مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوئیں بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی اسٹریٹیجک توازن میں بھی پاکستان کی پوزیشن مستحکم کی۔ پاکستان نے 2025 میں ثابت کیا کہ چھوٹے سے ملک بھی موثر قیادت، مضبوط دفاع اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی طاقتوں کے درمیان اپنا کردار نمایاں کر سکتے ہیں۔







