بھارتی شہری امریکی قونین کی خلاف ورزی سے اجتناب کریں ، امریکی سفارتخانے کا انتباہ
قوانین کی خلاف وزی پر ملک بدری سمیت سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

واشنگٹن:بھارت میںامریکی سفارتخانے نے بھارتی شہریوں کوخبردار کیاہے کہ وہ امریکی قوانین کی خلاف ورزی سے اجتناب کریں،بصور ت دیگر انہیں ویزا کی منسوخی، ملک بدری اور مستقبل کے ویزوں کے لیے نااہلی سمیت سنگین نتائج کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق امریکہ میں مقیم بھارتیوں کے جرائم کی سنگین صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ویزا کوئی حق نہیں بلکہ ایک خصوصی رعایت ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے جا سکتے ہیں، انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا مستقبل کے ویزے کے لیے نااہلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔یہ انتباہ ایک ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی حکام نے بھارتی شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور فراڈ کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے۔ گزشتہ کچھ برس میں امریکہ میں بھارتی شہریوں کی جانب سے ویزا فراڈ، منظم گینگز کے جرائم اور غیر قانونی بارڈر کراسنگ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے گزشتہ سال 3ہزار258 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیاجو کہ گزشتہ 16سال میں سب سے بڑی تعداد ہے۔امریکہ میں مقیم بھارتی شہریوں کی تعداد 45لاکھ سے زائد ہے اور حالیہ برسوں میں ان میں سے کئی افراد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطاق، بھارتیوں کی جانب سے جعلی ڈگریاں، غیر قانونی اسٹریٹ کرائمز، وائٹ کالر جرائم اور جیلوں میں بڑھتے ہوئے جرائم کی اطلاعات نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔امریکی سفارتخانے نے بھارتی طلبہ کو خبردار کیاہے کہ وہ اپنے ویزا قواعد کی خلاف ورزی نہ کریں۔ 2020کی دہائی کے آغاز سے اب تک 500 سے زیادہ بھارتی شہریوںکے F-1ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں،جس کی وجہ سے امریکہ میں بھارتی طلبہ کی تعداد میں 44 سے 80 تک کی کمی آئی ہے۔ ویزوں کی منسوخی کی وجہ جعلی ڈگریاں، شدت پسند ی اوردیگر جرائم ہیں۔بھارتی شہریوں کیلئے امریکی ویزا ریجیکشن کی شرح بڑھ کر 41 تک پہنچ گئی ہے۔ 2025میں بھارتی گینگز اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے گینگسٹرز اور منشیات کی سمگلنگ جیسے دیگر سنگین جرائم پیشہ افراد امریکہ میں مختلف جرائم کے ارتکاب میں ملوث پائے گئے ہیں۔ پاکیرو گوپال ریڈی نے میسوری میں داخلے کے لیے جعلی BScسرٹیفکیٹ جمع کرایاجس کی وجہ سے اسے فورا ڈی پورٹ کر دیا گیا۔بادل خان سوری کو پروپیگنڈا روابط پر جیل کی سزا ہوئی۔ بھارتی طلبہ کی بڑی تعداد کا جرائم میں ملوث ہونا امریکہ کے لیے حقیقی سکیورٹی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔2025 کے وسط تک 169بھارتی امریکی جیلوں میں قید تھے، جن میں ڈیتھ رو کا قاتل رگھویندرا یاندوری بھی شامل ہے۔ جنوری 2025میں گروپریت اور جسویر سنگھ کو 70لاکھ ڈالر کی کوکین سمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ، بھارتی گینگ لارنس بشنوئی کے ممبران امن کمار اور لکھوندر سنگھ کو قتل اور بھتہ خوری کے کیسز میں گرفتار کر کے ملک بد ر کیا گیا۔ امریکہ میں مقیم بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد سائبر کرائمز میں بھی ملوث ہے۔گزشتہ سال میں بھارتیوں کے خلاف 150سے زیادہ سائبر فراڈ کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں IRSاسکیموں اور BECہائسٹ جیسے فراڈ بھی شامل ہیں۔ ان اسکیموں کو بھارت میں کام کرنے والے کال سنٹر چلاتے ہیں، جو امریکہ کے شہریوں کو ہراساں اور ان سے مالی فراڈ کرتے ہیں ۔سیمیر رمیش مینون کو سسکو کیس میں 1.2کروڑ ڈالر کمیشن اسکینڈل پر 5سال قید ہوئی۔امریکی حکام نے سختی سے کہا ہے کہ امریکی ویزے کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔امریکی سفارتخانے کا انتباہ ایک واضح اشارہ ہے کہ امریکہ میں بھارتی شہریوں کے جرائم اور فراڈ کی بڑھتی ہوئی شرح حکام کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے افراد کو امریکہ میں اپنے قانونی مقام کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاط سے کام لینا ہوگا اور قوانین کی خلاف ورزی سے گریز کرنا ہوگا۔







