آسیہ اندرابی انکی ساتھیوں کو جھوٹے مقدمے میں مجرم ٹھہرانا انصا ف کا قتل ہے، ڈی ایف پی

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے” این آئی اے“ عدالت کی طرف سے دخترانِ ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور نہیدہ نسرین کو ایک جھوٹے مقدمے میں مجرم ٹھہرانے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انصاف کا قتل اوربھارتی عدالتی نظام کی شفافیت پر ایک سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے کہا کہ این آئی اے عدالت کا یہ فیصلہ سراسر ایک انتقامی کارروائی ہے، جو کشمیری خواتین قیدیوں کو ان کے بنیادی قانونی حقوق سے محروم کرکے اور اپنے دفاع کا موقع دیے بغیر سنایا گیا۔
انہوںنے کہا کہ اس طرح کی سزائیں، جو کسی بھی قسم کے منصفانہ عدالتی تقاضوں کے بغیر دی جاتی ہیں، اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہیں کہ بھارت میں عدالتوں کو ریاستی جبر کا محض ایک آلہ بنا دیا گیا ہے، جنہیں سیاسی نظریات کو مجرمانہ قرار دینے، اختلافِ رائے کو کچلنے اور جموں و کشمیر کے عوام کو خاموش کرانے کے لیے بے رحمی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ترجمان نے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیری سیاسی قیدیوں پر بغاوت، دہشت گردی، نفرت انگیز تقاریر اور دیگر الزامات کے تحت من گھڑت اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ ان کشمیری رہنماﺅں کو صرف اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کا مطالبہ اور کشمیریوںپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان ناجائز سزاو¿ں کے خلاف آواز اٹھائیں۔
دریں اثنا ترجمان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں آئمہ مساجد کی وفائلنگ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں سنگین مداخلت قرار دیا۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوںپربھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے کردار ادا کریں۔







