بھارتی قابض انتظامیہ کی سیاسی انتقامی کارروائیاں، مقبوضہ جموںو کشمیر میں گرفتاریاں بڑھ گئیں

سری نگر:غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں کالا قانون یو اے پی اے (UAPA) کا استعمال سیاسی انتقام اور قابض انتظامیہ کے دبا ئوکا آلہ بن چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہزاروں کشمیری گرفتار کیے جا چکے ہیں، مگر سزا کی شرح انتہائی کم ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قابض حکومت گرفتاری کو خود سزا کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 2019 سے 2023 کے درمیان، قابض بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ علاقے میں یو اے پی اے کے تحت مجموعی طور پر 3,662 افراد کو گرفتار کیا، مگر صرف 23 افراد کو سزا دی گئی، یعنی محض 0.62 فیصد ہے۔ صرف 2023 میں ہی 1,206 کشمیری گرفتار ہوئے جبکہ 10 افراد کو سزا سنائی گئی جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ مجرمانہ کارروائی کی شرح محض 0.8 فیصد رہی۔
مودی سرکار نے جب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے یونین ٹیرٹری بنادیا تب سے یو اے پی اے کے تحت گرفتاریوں میں تیزی آئی ہے۔ 2019 میں 227، 2020 میں 346، 2021 میں 645، 2022 میں 1,238 اور 2023 میں 1,206 کو گرفتار کیا گیا تاہم سزا دینے کا تناسب انتہائی کم رہا، 2019 اور 2021 میں کوئی سزا نہیں، 2020 میں 2، 2022 میں 11 اور 2023 میں 10 افراد کو سزا دی گئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق حقیقی گرفتاریوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے، اور یہ واضح کرتا ہے کہ صرف گرفتار کرنا ہی سزا بن چکی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق قابض مقبوضہ جموں و کشمیر میں یو اے پی اے دیگر کالے قوانین جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ کے ساتھ مل کر سیاسی آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگست 2019 سے ہزاروں کشمیری جن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما، کارکن، صحافی اور نوجوان شامل ہیںگرفتار ہوئے۔ گرفتار شدگان کئی سال جیل میں رہنے کے بعد بغیر کسی الزام کے رہا ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں اب بھی مختلف جیلوں میں نظر بند ہیں۔مودی حکومت کے تحت بھارت کے دیگر حصوں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ 2019 سے 2023 کے دوران 28 ریاستوں میں 5,690 افراد کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا، لیکن صرف 288 افراد (تقریباً 5 فیصد) کو سزا دی گئی۔ 2023 میں 1,686 افراد گرفتار ہوئے، مگر سزا کی تعداد صرف 84 رہی، یعنی 4.98 فیصد۔
بھارتی ریاست پنجاب میں اس قانون کے غلط استعمال کی ایک اور مثال سامنے آئی۔ 2019 سے 2023 کے درمیان 259 افراد گرفتار ہوئے، مگر کسی کو سزا نہیں دی گئی۔ 2023 میں پنجاب پانچویں نمبر پر رہا، 50 گرفتاریوں کے باوجود سزا کی شرح صفر رہی، جو بغیر شواہد گرفتاریوں کی عکاسی کرتی ہے۔اتر پردیش 2023 میں سب سے زیادہ گرفتاریاں کرنے والا ریاست رہی ، 1,122 افراد گرفتار، لیکن صرف 75 افراد کو سزا دی گئی، یعنی 6.68 فیصد۔ آسام، منی پور اور میگھالیہ میں بالترتیب 154، 130 اور 71 گرفتاریاں ہوئی، مگر آسام میں ایک کے علاوہ دیگر ریاستوں میں کسی کو سزا نہیں دی گئی۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بھارت میں یو اے پی اے کا استعمال بدعنوانی، سیاسی دباو اور بنیادی حقوق کی پامالی کے لیے کیا جا رہا ہے۔





