بھارت کے پاس اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، حریت آزاد کشمیر شاخ

اسلا م آباد:
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس اپنا یوم جمہوریہ منانے کی کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں ہے کیونکہ اس نے کشمیریوں کا پیدائشی حق ، حق خود ارادیت فوجی طاقت کے بل پر دبا رکھا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد نے بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں موجودہ زمینی حقائق ایک سنگین اور مسلسل انسانی حقوق کے بحران کو بے نقاب کرتے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر نظربندیاں، اختلاف رائے کو دبانے، مذہبی آزادی کی پامالی اور صحافیوں پر قدغنیں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ریاست نہیں بلکہ ایک استعماری، جابرانہ اور نسل پرست ملک ہے جس نے لاکھوں کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی، سیاسی اور آئینی حقوق سے زبردستی محروم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی تعریف آئین، انتخابات یا رسمی تقریبات سے نہیں ہوتی، بلکہ انسانی وقار، مساوات، مذہبی اور سیاسی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ سے ہوتی ہے، جن اصولوں کو بھارت برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور بین الاقوامی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ وہ بھارت کا احتساب کریں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو یقینی بنائیں۔ دریں اثنا حریت آزاد کشمیر شاخ کے رہنمائوں الطاف حسین وانی اور الطاف بٹ نے بھی اپنے بیانات میں کہا کہ بھارت ایک طرف اپنا یوم جمہوریہ منا رہا ہے جبکہ دوسری طرف سے اس نے حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو محض اس وجہ سے جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال رکھا ہے کیونکہ وہ اپنے پیدائشی حق ، حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جسکا وعدہ ان سے عالمی سطح پر کیا گیا ہے۔







