مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم بھارتی جمہوریت کے کھوکھلے پن کا ثبوت ہیں، لبریشن الائنس

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں لبریشن الائنس نے بھارتی یوم جمہوریہ کو کشمیریوں کیلئے یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس ملک نے ایک پوری قوم کو اس کے بنیادی انسانی، سیاسی اور آئینی حقوق سے محروم کر رکھا ہو، اسے جمہوریت کے نام پر تقریبات منعقد کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جموں کشمیر لبریشن الائنس کے ترجمان سجاد میر نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو فوجی طاقت ، کالے قوانین اور بدترین ریاستی تشدد کے ذریعے کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں آج بھی لاکھوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی، آئے روز کرفیو، محاصرے، انٹرنیٹ و مواصلاتی پابندیاں، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی قبریں اور خواتین و بچوں کے خلاف جرائم اس نام نہاد جمہوریت کے کھوکھلے پن کا کھلا ثبوت ہیں۔سجاد میر نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں بلکہ اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی، زمینوں پر قبضہ، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں اور غیر مقامی عناصر کی آبادکاری دراصل آبادیاتی یلغار ہے، جس کا مقصد کشمیری شناخت ، تاریخ اور مزاحمتی شعور کو مٹانا ہے۔۔سجاد میر نے عالمی برادری ، اقوامِ متحدہ ، او آئی سی ، یورپی یونین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے جمہوریت کے جھوٹے دعوں کو مسترد کریں، مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔






