بھارت

اتر پردیش : مسلمان خاتون وکیل کو مالی بدعنوانی بے نقاب کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا


لکھنو: بھارتی ریاست اتر پردیش کے علاقے ہردوئی میں ایک مسلمان خاتون وکیل کو محض اس وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس نے گاﺅں کی خاتون سربراہ کی بدعنوانی اور ناانصافیوں کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایڈووکیٹ فردوس جہاں نے کہا کہ ان اور ان کے خاندان کے دیگر افراد پر گاو¿ں کی ایک خاتون سربراہ کے شوہر اور اسکے ساتھیوںنے محض اس بنا پر حملہ کیا کیونکہ اس نے بدعنوانی کے حوالے سے شکایت درج کرائی تھی۔
یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب فردوس جہاں اپنی فیملی کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہی تھیں کہ اس دوران گاو¿ں کی سربراہ کے شوہر نے کئی مردوں کے ساتھ مل کر گاڑی کو گھیر لیا اور اندر موجود افراد پر حملہ کیا۔
فردوس جہاں نے کہا کہ یہ کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا۔میںنے محض بدعنوانی کی شکایت کی تھی۔ الزامات کی جانچ پڑتال کی گئی اور وہ سچ ثابت ہوئے۔ اس کے بعد گاو¿ں کی خاتون سربراہ کے مالی اختیارات چھین لیے گئے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ سراسر ایک انتقامی کارروائی تھی ۔ خاتون وکیل پر حملے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں کئی لوگوں کو گاڑی پر لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے حملہ کرتے، کار کی کھڑکیوں کو توڑٹے اور ایک شخص کوگھسیٹ کر باہر نکالتے ہوئے اور اسے مارتے پیٹتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button