بھارت

بھارت :کنسرنڈسٹیزنز گروپ کا شرجیل امام کی فوری رہائی کا مطالبہ، عدالتی کارروائی پر مایوسی کا اظہار

نئی دہلی: بھارت میں شہری حقوق کی معروف تنظیم کنسرنڈ سٹیزنز گروپ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ممتاز ریسرچ اسکالر اور شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے) کے خلاف تحریک کی ایک اہم شخصیت شرجیل امام کی فوری رہائی کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ انہوں نے بغیر کسی سزا کے جیل میں چھ سال مکمل کر لئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شرجیل امام کو2020میںشہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف بھارت بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران تقاریر کرنے پر پانچ بھارتی ریاستوں میں پولیس کی طرف سے متعدد ایف آئی آر درج کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔شرجیل امام کے بھائی مزمل امام، شرجیل امام کے قانونی مشیرایڈوکیٹ نظام الدین پاشا اور احمد ابراہیم، سینئر صحافی صبا نقوی اور آدتیہ مینن، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سیکریٹری دانش علی،راجیہ سبھا کے رکن منوج کمار جھا،پروفیسرز نندیتا نارائن اور اپوروانند، کاروانِ محبت کے بانی ہرش مندر اوردیگرنے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عدالتی کارروائی پرپریشانی اور مایوسی کا اظہار کیا اور اسے متضاد فیصلوں کا نظام قراردیا جہاں جرم کا نتیجہ اکثر پہلے سے طے شدہ محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے قانون کے سامنے مساوات کے فقدان کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ گھناو¿نے کیسوں میں سزا یافتہ مجرموں کو ہزاروں دن کی پیرول یااچھے برتاو¿ کی بنیاد پر جلد رہائی دی گئی ہے جیساکہ بلقیس بانو کیس یا رام رحیم کیس میں ہوا،جبکہ شرجیل امام چھ سالوں میں ایک بار بھی جیل سے باہر نہیں آیا۔راجیہ سبھا کے رکن منوج کمار جھا کا کہنا ہے کہ مذہبی تقسیم کی بنیاد پران بنیادی مسائل کو نظروں سے اوجھل کرنے کی ایک منظم کوشش کی گئی ہے، لیکن سیاست کا یہ انداز اب بے نقاب ہورہاہے۔آئی آئی ٹی بمبئی کے گریجویٹ شرجیل امام جنوری 2020 میں گرفتار ہونے سے پہلے جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button