کشتواڑ میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی جاری ،ڈرون، سراغ رساں کتے، ہیلی کاپٹر تعینات

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بڑے پیمانے پرمحاصرے اورتلاشی کی کارروائی جاری ہے جہاں مسلح تصادم کے بعد قابض حکام نے ڈرون، سراغ رساں کتے اور ہیلی کاپٹر تعینات کردیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تازہ ترین تصادم ہفتہ کی صبح اس وقت شروع ہوا جب بھارتی فوج نے کشتواڑ کے علاقے ڈولگام میں برفباری میں جاری تلاشی کارروائی کے دوران مجاہدین کے ساتھ جھڑپ کا دعویٰ کیا۔حکام نے بتایا کہ فائرنگ کا ایک مختصر تبادلہ ہوا جس کے بعد آپریشن کو ایک مخصوص مقام تک محدود کر دیا گیااورعلاقے میں اضافی کمک پہنچائی گئی۔فوجی آپریشن جس کا کوڈ نام آپریشن ٹراشی-I ہے، مشترکہ طور پربھارتی فوج کی وائٹ نائٹ کور، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اورپولیس نے شروع کیاتھا۔جھڑپ کے بعد پورے علاقے کا سخت محاصرہ کیاگیا، فضائی نگرانی اور زمینی ٹریکنگ کو تیز کیا گیا تھا۔کشتواڑ بھارتی فورسز کی کارروائیوں کا مرکز بناہوا ہے جہاں گزشتہ سات ماہ کے دوران کم از کم چھ مسلح تصادم رپورٹ ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں سے مقامی باشندوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جنہیں مسلسل خوف، طویل لاک ڈاو¿ن جیسے حالات اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا۔







