بھارتی فورسز مقبوضہ جموں وکشمیر میں جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں: غلام محمد صفی

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ نے غیور کشمیری عوام کی سات دہائیوں پر محیط بے مثال جدوجہد بالخصوص 2019 کے بعد سے بھارتی سامراج کے بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف دکھائی جانے والی استقامت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے ایک بیان میں کہاکہ قابض بھارتی فورسز نے وادیِ کشمیر میں تحریک حقِ خودارادیت کو سبوتاڑ کرنے کے لیے جہاں جبر و استبداد کے تمام ہتھکنڈے آزمائے، وہیں جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 اور 23 فروری 1991 کی درمیانی شب کو ضلع کپواڑہ کے جڑواں دیہات کنن اور پوشپورہ میں پیش آنے والا المناک واقعہ برصغیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب ہے جس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس لرزہ خیز رات کو بھارتی افواج نے لگ بھگ 100 سے زائد عفت مآب خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کر کے نہ صرف اخلاقیات کی تمام حدیں پار کیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے چارٹر کی دھجیاں اڑا دیں۔ انہوں نے کہاکہ اس وحشیانہ واقعے کو تین دہائیاں بیت جانے کے باوجود بھی مظلوم مائیں، بہنیں اور بیٹیاں انصاف کے حصول کے لیے در بدر ٹھوکریں کھا رہی ہیں جونام نہادبھارتی جمہوریت کے چہرے پر ایک بدنما داغ اور عالمی برادری کی خاموشی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صنفِ نازک کے ساتھ یہ گھناو¿نا سلوک محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ کشمیریوں کے حوصلے توڑ کر انہیں اپنی جائز اور مبنی برحق جدوجہدسے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔حریت رہنما نے کہاکہ قابض انتظامیہ علاقے میںآبادی کا تناسب تبدیل کرنے، کشمیریوں کے گھروں کو بلڈوز کرنے، جائیدادوں کو ضبط کرنے اور آزادی پسند طبقے کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے ملازمتوں سے برطرف کرنے جیسے غیر آئینی اقدامات پر اتر آئی ہے جو جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ ریاست میں جاری اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں ،بھارت کوان غیر انسانی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے روکیں اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔







