یاسین ملک کے خلاف جھوٹے مقدمے کا مقصد مودی حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرانا ہے: قانونی ماہرین

جموں:مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو سزا دینے کے لیے جھوٹے بیانیے گھڑ رہی ہے اور حقائق کو مسخ کر رہی ہے جس کا ثبوت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک کو نشانہ بنانے کی تازہ ترین کوشش ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت نے 36سال بعد ایک اور عینی شاہد تیار کیاہے جس نے یاسین ملک اور محمد رفیق پہلو کو 1990 میں سرینگر میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے دوران فائرنگ کرنے والے کے طورپر شناخت کیا۔مذکورہ شخص نے جموں کی ایک ٹاڈا عدالت کے سامنے گواہی دی جس میں یاسین ملک اوررفیق پہلو کو 25 جنوری 1990 کے حملے سے جوڑا گیا جس میں بھارتی فضائیہ کے چار اہلکار ہلاک اور 40 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل اسی کیس میں 31 جنوری کو یاسین ملک کے ساتھی شوکت بخشی کو ایک شوٹر کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔قانونی ماہرین نے ان نئے گواہوں کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں من گھڑت قراردیااور طریقہ کار کی بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ پورا منصوبہ یاسین ملک کو پھانسی پر چڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ مودی حکومت کی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کیا جائے اور جموں و کشمیر کے لئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو دبایا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی حکام کی طرف سے کشمیری رہنماو¿ں کو مجرم قراردینے اور جھوٹے مقدمات اور مسخ شدہ بیانیے کے ذریعے کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیریوں پر بھارت کے منظم مظالم کو روکنے کے لئے ٹھوس اقداما ت کرے۔







