نئی دلی: پولیس کا ”جے این یو“کے طلباءپر طاقت کا وحشیانہ استعال، متعدد طلباءزخمی
طلباءیونیورسٹی کے وائس چانسلر کے فرقہ پرستانہ بیان کے خلاف احتجاج کر رہے تھے

نئی دہلی :بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں پولیس نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں پرامن احتجاج کرنے والے طلباءکے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد طلباءزخمی ہوئے۔ پولیس نے اس دوران ایک درجن سے زائد طلباءکو حراست میں لیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کم از کم 14 طلباءکو وزارت تعلیم کے دفتر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا۔ طلباءیونیورسٹی کے وائس چانسلر سنت شری ڈی پنڈت کے فرقہ پرستانہ بیان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جو انہوں نے ایک حالیہ انٹریو کے دران دیا ہے۔ طلباءوائس چانسلر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد میں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) کے دو عہدیدار بھی شامل ہیں۔پولیس نے طلبہ کو روکنے کے لیے کیمپس کے باہر لاٹھی چارچ کیا جس سے کئی طلباءزخمی ہو گئے ۔۔
احتجاج کے دوران حراست میں لی گئی جے این یو ایس یو کی صدر ادیتی مشرا نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ انتظامیہ نے آج طلباءکے پر امن احتجاج کو روکنے کیلئے بھاری تعداد میں پولیس تعینات کی تھی جس نے طلباءپر تشدد کیا جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔
جے این یو ٹیچرس ایسوسی ایشن (جے این یو ٹی اے) نے بھی طلبا پر پولیس تشدد کی سخت مذمت کی اور حراست میں لیے گئے طلبا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔”KMS-21/M







