تنازعہ کشمیر پر بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہے ، حریت کانفرنس

سرینگر: کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے بارے میں بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پورے جنوبی ایشیا کے امن وسلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قابض انتظامیہ کی طرف سے تین کشمیری سرکاری ملازمین کی جھوٹے الزامات کے تحت برطرفی کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ پورا جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی میں رائے شماری کے ذریعے کرنا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرے اور کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت استعمال کرنے کا موقع دے۔حریت ترجمان نے واضح کیاکہ 5اگست 2019 کو بی جے پی حکومت کی طرف سے کئے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے کشمیر کی آبادی کے تناسب کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور سلامتی کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ اپنی ہندوتوا پالیسیوں سے نہ تو تاریخی حقائق کوتبدیل کرسکتی ہیں اور نہ ہی کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول کی جائز جدوجہد کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں مستقل امن تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل سے منسلک ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے۔







