بھارت حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر کشمیریوں کو نشانہ بنا رہا ہے: حریت کانفرنس

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت علاقے میں اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ 1989 کے بعد سے علاقے میں بھاری تعداد میںفوج تعینات کی گئی اور تقریباً 10 لاکھ بھارتی فوجی اس وقت علاقے میں موجود ہیں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ متنازعہ علاقے میں بھارتی اقدامات کی مخالفت کرنے پر ہزاروں کشمیریوں کو شہید اور گرفتار کیا گیا ہے۔ایڈوکیٹ منہاس نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ صورتحال سے نمٹنے اور مقبوضہ جموں وکشمیرکے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیریوں کو اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر بھارتی مظالم کا سامنا ہے، بھارتی فوجی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں، چھاپے اور گرفتاریاں کر رہے ہیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ استصواب رائے کا مطالبہ کرنے پرکشمیر یوں کو اجتماعی سزا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آزادی پسند لوگوں کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کر کے انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے سے انکار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے کشمیریوں کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن بھارت کئی دہائیوں سے ان قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ظالمانہ ہتھکنڈوں کے باوجود بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کر سکا،اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو حل کرے اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خونریزی کو روکے۔




