پاکستان ایران تنازعہ کو کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے، مسعود خان
اسلام آباد:آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سابق سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایران تنازعے کو کم کرنے کیلئے ایک تعمیری سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے واشنگٹن، تہران اور ریاض سمیت بڑے دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسعود خان نے مشرق وسطی کے بدلتے ہوئے بحران پر ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازعہ سے نکلنے کی حکمت عملی پر غور کر سکتا ہے لیکن جنگ ختم ہونے سے بہت دور دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی طور پر کسی بھی وقت فتح کا دعوی کر سکتے ہیں، امریکی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے ایک طویل تصادم کی تیاریوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اضافی فوجی تعیناتی بشمول اور سمندری مہم جوئی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تنازع جلد ختم ہونے کے بجائے شدت اختیار کر سکتا ہے۔ مسعود خان احمد خان نے کہا کہ واشنگٹن کی طرف سے ابتدائی طور پر جو اہداف مقرر کیے گئے تھے، جیسے کہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا یا حکومت کی تبدیلی وغیرہ ، وہ اب تک حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔نہوں نے کہا کہ عالمی منڈیاں پہلے ہی متاثر ہو چکی ہیں، تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے معاشی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ روس کو اس صورتحال سے تزویراتی طور پر فائدہ ہوا ہے، جب کہ یورپی ممالک نے وسیع جغرافیائی سیاسی مضمرات، خاص طور پر یوکرین کی جنگ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔مسعود خان نے کہا کہ جاری فوجی محاذ آرائی کے باوجود کئی بیک چینل سفارتی اقدامات جاری ہیں۔ متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان جیسے ممالک خاموش سفارت کاری کو فعال طور پر سہولت فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ زمینی دستوں کی تعیناتی تنازعہ کو نمایاں طور پر طول دے سکتی ہے۔ عراق اور افغانستان کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان ممالک میں عسکری مقاصد شروع میں تیزی سے حاصل کیے گئے لیکن پیچیدہ علاقائی حرکیات کی وجہ سے برسوں تک جنگیں جاری رہیں۔۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی تیل کی بڑی تنصیبات پر حملوں سے پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔






