ناگالینڈ کو شورش زدہ ریاست قرار دے دیا گیا
بھارتی فورسز کو 6 ماہ کے لیے خصوصی اختیارات دے دیے گئے

نئی دلی:بی جے پی کی بھارتی حکومت نے ناگالینڈ کو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ "شورش زدہ ریاست "قرار دے دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ناگالینڈ کے نو اضلاع اور کئی پولیس اسٹیشنوں کے تحت علاقوں کو کالے قانون کے تحت چھ ماہ کے لیے شورش زدہ قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔ بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں دیما پور، نیولینڈ، چوموکیڈیما، مون، کیفیر، نوکلک، پھیک، پیرین اور میلوری اضلاع کو شورشزدہ قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن یکم اپریل سے نافذ العمل ہوگا۔ریاست کے دیگر اضلاع میں مخصوص پولیس اسٹیشنوں کے تحت کوہیما ، موکوک چھنگ ، ووکھااور زونہیبوٹو اضلاع کے متعدد علاقوں کو بھی شورش زدہ قراردیاگیاہے ۔آرمڈ فورسز اسپیشل پاورزایکٹ کے تحت بھارتی فورسز کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، جو انہیں کسی کو بھی گرفتار ، قتل اورہراساں کرنے اور کسی بھی گھر میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ناگا قوم کی خودمختاری کا مطالبہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ علیحدگی کی اس تحریک کی قیادت ناگالینڈ کی نیشنل سوشلسٹ کونسل 1956سے کر رہی ہے۔ نیشنل کونسل نے 1947میں آزادی کا اعلان کیا تھا اور آج بھی یہ مطالبہ خطے میں کشیدگی کابنیادی سبب ہے۔








