بھارت پاکستان اوربنگلہ دیش کے درمیان دراڑیں پیدا کرنے کے لیے مسلسل پروپیگنڈا کر رہا ہے

اسلام آباد: بھارتی انٹیلی جنس سے منسلک نیٹ ورک، عوامی لیگ کے عناصر کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کی اندرونی معاملات میں پاکستان کو ملوث کرنے اور اس کے سیکیورٹی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل پروپیگنڈہ مہم میں مصروف ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی بیانیے میں پاکستان کو بنگلہ دیش کی مسلح افواج پر اثر انداز ہونے اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل وقار الزمان کی اتھارٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں 2024 کی طلبا بغاوت کو پاکستان کی حمایت یافتہ بغاوت کی کوشش کے طور پر پیش کرنے کے لیے ایک مربوط ڈس انفارمیشن مہم شروع کی گئی تھی، اس دعوے کو آزادانہ جائزوں میں بڑے پیمانے پر مسترد کر دیا گیا تھا۔
مبصرین کہتے ہیں کہ جنرل وقار الزمان کو نشانہ بنانے والی من گھڑت رپورٹس اور آرٹیفشل انٹیلی جنس(اے آئی) سے تیار کردہ ڈیپ فیکس بنگلہ دیش کی فوج کے اندر عدم اعتماد پیدا کرنے کے لیے پھیلائے گئے، جن میں غیر ملکی فوج تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے جھوٹے الزامات بھی شامل ہیں۔
بنگلہ دیش کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بھی کچھ بھارتی میڈیا اداروں پر غلط معلومات کی مہم چلانے کا الزام لگایا ہے جس کا مقصد پاکستان کو بنگلہ دیش کے سیکیورٹی فریم ورک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے والے اداکار کے طور پر پیش کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ بھارت نے عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کو پناہ دینے کا سلسلہ مسلسل جاری رکھاہوا ہے حالانکہ وہ بنگلہ دیش کو کئی سنگین سنگین مقدمات میں مطلوب ہیں۔ بھارت بنگلہ دیشن کے بار بار کے مطالبات کے باوجود شیخ حسینہ کو اسکے حوالے نہیں کر رہا جو دنوں ملکوں کے درمیاں موجود معاہدوں خاص طور پر 2013کے مجرموں کی حوالگی کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کسی بھی بہتری کو اپنے علاقائی تسلط کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے اور اس لیے ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی پروپیگنڈہ کوششوں کا مقصد عدم اعتماد کو گہرا کرنا، رائے عامہ کو متاثر کرنا اور علاقائی استحکام اور تعاون کے امکانات کو کمزور کرنا ہے۔






