تامل ناڈو : متنازعہ وقف ترمیمی ایکٹ کی منسوخی کیلئے احتجاجی ریلی
مدورائی: بھارتی ریاست تامل ناڈو کے ضلع مدورائی میں مانیتھنیا مکل کچی مسلمانوں کو سیاست میں متناسب نمائندگی اور متنازعہ وقف ترمیمی ایکٹ کی منسوخ کے مطالبات کے حق میں ایک زبردست ریلی نکالی ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تنظیم کے صدر اور رکن اسمبلی پروفیسر ڈاکٹر ایم ایچ جواہر اللہ کی قیادت میں نکالی گئی ریلی میں ہزاروں افرادنے شرکت کی ۔ ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر انصاف، مساوات اور وقف املاک کے تحفظ کے نعرے درج تھے ۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جواہر اللہ نے کہاکہ ہماری جدوجہد اقتدار کے لیے نہیں بلکہ سیکولرازم ، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور شفاف طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ متنازعہ وقف ترمیمی ایکٹ کے ذریعے اقلیتیوں کی تاریخی املاک اور اثاثوں کو ہتھیانے کی کوشش کی گئی ہے جس کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کی جائیگی ۔انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں مسلسل کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 16 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہونے کے باوجود، لوک سبھا میں صرف 24 مسلم اراکین موجود ہیں جبکہ ان کی تعداد کم سے کم 80 ہونی چاہیے تھی۔پروفیسر جواہر اللہ نے خبردار کیا کہ اگر وقف ترمیمی ایکٹ منسوخ نہ کیا گیا تو ایم ایم کسانوں کی طرح ملک بھر میں احتجاج شروع کرے گی۔ریلی کے دوران ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر اور معروف مصنف عبدالرحمن نے کہاکہ 1952سے 2019تک بھارت میں ہونیوالے17عام انتخابات میں مسلم نمائندگی صرف 5.78فیصد رہی ہے۔گزشتہ سال بھی عام انتخاب میں صرف 25مسلم ایم پیز منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ آبادی کے لحاظ سے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔





