بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کوایک فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کردیا ہے
بی جے پی حکومت نے کشمیری عوام کے خلاف کھلی جنگ چھیڑرکھی ہے: حریت کانفرنس
سرینگر29اپریل (کے ایم ایس)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت ایک طرف حالات کو معمول کے مطابق قراردیتے ہوئے تھکتی نہیں اوردوسری طرف بھاری تعداد میں فوجیوں کو تعینات کرکے علاقے کو ایک فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کررکھا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے دیگر علاقوں میں بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں نے گھروں پر چھاپوں، نوجوانوں کی گرفتاریوں اور پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تلاشی کی کارروائیوں اور بھاری تعداد میں فوجیوں کی موجودگی نے پوری وادی میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور روزمرہ کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ہے۔بھارتی فورسز اور پولیس کی بکتر بند گاڑیاں سڑکوں کے چوکوں پر تعینات کی گئی ہیں جہاں لوگوں کی مکمل تلاشی لی جارہی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں بھارتی حکام کی طرف سے حالات معمول کے مطابق دکھانے کی کوشش بڑے پیمانے کاایک فوجی آپریشن لگتی ہےجہاں لاکھوں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔سرینگر میں ایک طالب علم نے سوال اٹھایاکہ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں لوگوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے خاموش لیکن پر عزم مطالبہ آزادی نے بی جے پی حکومت، بھارتی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور قابض انتظامیہ کو بوکھلاہٹ کا شکارکردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جنگ جیسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں اورعلاقے کو ایک فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختلف بہانوںسے پرتشدد فوجی آپریشن اور گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مقامی کاروبار کو مفلوج کرنا اور علاقے کی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔ بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان کے حالیہ دورہ وادی کشمیر سے خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ یہ پاکستان کے خلاف ممکنہ مہم جوئی کی تیاری ہوسکتی ہے۔جنرل چوہان نے اپریل کے اوائل میں اپنے تین روزہ دورے کے دوران بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ اضلاع سمیت کنٹرول لائن پر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے نے کپواڑہ اور بارہمولہ میں سول انتظامیہ کے عہدیداروں اور بھارت نواز سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں جہاں کنٹرول لائن پر کشیدگی کی صورت میں ممکنہ عوامی ردعمل پر بات چیت ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سی ڈی ایس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان ملاقات کے بعد پوری وادی میں نئے سرے سے کریک ڈاو¿ن شروع کیا گیا ہے جبکہ اپریل میں وادی کشمیر اورجموں میں کنٹرول لائن کے نزدیک علاقوں میں فرضی مشقوں کا اعلان کیا گیا ۔
دریں ا©ثناءکل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ علاقے میں ہر قسم کے احتجاج اور اختلاف رائے کو دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرینگر، سوپور، گاندربل، اسلام آباد اور پلوامہ میں حال ہی میں درجنوں افراد کوگرفتارکیاگیا ہے جن میں طلباءاور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں کے خلاف کھلی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔






