مقبوضہ کشمیر: آغا سید حسن کا منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت پر اظہار تشویش
سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور انجمن شرعی شیعیان کے صدرآغا سید حسن موسوی الصفوی نے علاقے میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک خاموش تباہی قرار دیا جو معاشرے کے اخلاقی، روحانی اور سماجی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آغا سید حسن نے آج مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کے خلاف ایک منظم حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو آہستہ آہستہ نوجوانوں کے ایمان، اخلاق اور مستقبل کو نگل رہی ہے اور اگر اس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو اس کے نتائج ناقابل تلافی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع، مستقل اور غیر متزلزل حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سینئر حریت رہنما نے قرآن مجید کی سورہ المائدہ کا ذکر کیا، جس میں نشہ آور اشیا کو شیطانی عمل قرار دے کر ان سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔انہوں نے حکام پر زور دیاکہ وہ جوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پید اکرے ۔ انہوں نے والدین کو تلقین کی کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں اور انکی صحبت اور روزمرہ سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں۔انہوں نے اس حوالے سے اساتذہ کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم صرف نصاب تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی شامل ہونی چاہیے۔۔ آغا سید حسن نے علمائے دین کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے منبروں سے آگاہی پیدا کریں، نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور یہ پیغام عام کریں کہ حقیقی عزت اور سکون اللہ کی اطاعت میں ہے۔








