مقبوضہ جموں و کشمیر

طلباءکی تعلیم اور تربیت ساتھ ساتھ چلنی چاہیے: میرواعظ عمرفاروق

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمرفاروق نے کہاہے کہ تعلیم اور تربیت ساتھ ساتھ چلنی چاہیے اور تعلیم کا مقصد کردار سازی،احساس ذمہ داری اور انسانی اقدار کوفروغ دینا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ نے انجمن نصرت الاسلام ٹرسٹ اسلام آباد کے دورے کے موقع پر کہا کہ آٹھ برس کے طویل وقفے کے بعد انہیں قابض حکام نے ادارے کا دورہ کرنے کی اجازت دی ۔ میرواعظ نے طلباءاور اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور طلباءاور سماج کی فلاح و بہبود کے لیے نصرت الاسلام ٹرسٹ کی خدمات کو سراہا۔میرواعظ نے کہا کہ انجمن نصرت الاسلام کا بنیادی مقصد نئی نسل کو متوازن تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاقی اور انسانی اقدار سے آراستہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور تربیت ساتھ ساتھ چلنی چاہیے۔ تعلیم صرف روزگار اور ڈگریوں تک محدود نہیں بلکہ کردار سازی، احساس ذمہ داری اور انسانی اقدار کو فروغ دینا بھی اس کا اہم مقصد ہے۔انہوں نے کہا کہ انجمن نصرت الاسلام کبھی ایک تجارتی یا منافع بخش ادارہ نہیں رہا بلکہ اس کا مقصد ہر طبقے تک تعلیم کی رسائی کو ممکن بنانا ہے، جہاں آج بھی ساٹھ فیصد سے زائد طلبا ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی یہ پہلی نسل ہے جو تعلیم حاصل کر رہی ہے اور انہیں معمولی مصارف پر معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔میرواعظ نے کہا کہ بچوں کی رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی صحیح تربیت اور اخلاقی نشوونما کو یقینی بنانا والدین کی بھی ذمہ داری ہے۔میرواعظ کے نصرت الاسلام ٹرسٹ پہنچنے پر طلبا، اساتذہ اور معزز شہریوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔میرواعظ نے اسلام آباد کے ایک مقامی دارالعلوم میں آتشزدگی کے واقعے پرجس میں ایک طالب علم جاں بحق ہوگیا تھا، گہرے رنج و غم اورا افسوس کااظہار کیا، ۔ انہوں نے کہا کہ وہ متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ادارے کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن قابض حکام نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی جو افسوسناک ہے۔ میرواعظ نے کے پی روڈ اسلام آباد میں ایک تجارتی مرکز کا بھی افتتاح کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button