آسٹریلیا میںخالصتان ریفرنڈم کے لئے ووٹنگ اتوار کو ہوگی

01-36

اسلام آباد28جنوری(کے ایم ایس)سکھز فار جسٹس (ایس ایف جے)نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ 29جنوری کو میلبورن کے فیڈریشن اسکوائر میں ہوگی۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق میلبورن کے مری پیری گردوارے کے نمائندے روی اندر سنگھ نے آسٹریلوی میڈیا کو بتایا کہ ووٹنگ کاعمل جسے خالصتان ریفرنڈم کے نام سے جانا جاتا ہے، دنیا بھر کے لاکھوں سکھوں کے حق خود ارادیت کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی)نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا ہے کہ آسٹریلوی سکھ دنیا بھر کے لاکھوں دیگر سکھوں کے ساتھ 29جنوری کو بھارت میں ایک علیحدہ سکھ ریاست کے قیام کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں ووٹ دیں گے۔سکھوں کو بھارت میں خاص طور پر ہندو قوم پرستوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔اے بی سی نے کہا کہ 1984میں اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد فرقہ وارانہ تشدد میں ہزاروں سکھ مارے گئے۔ ایک آسٹریلوی خبر رساں ادارے ایس بی ایس پنجابی نے روی سنگھ کے حوالے سے بتایا کہ ریفرنڈم کا بنیادی مقصد بھارت کے اندر ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لیے سکھوں میں اتفاق رائے پیدا کرنا اور علیحدہ ریاست جسے خالصتان کے نام سے جانا جائے گا، کے مطالبے کی حد کا تعین کرنا ہے۔اکتوبر 2021میں شروع ہونے والے ریفرنڈم میں ووٹنگ اب تک برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور کینیڈا میں ہو چکی ہے۔بدھ کو میلبورن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایس ایف جے کے شریک بانی اور جنرل کونسلر گروپتونت سنگھ پنن نے کہا کہ بھارتی حکومت سکھوں کے علیحدہ ریاست کے مطالبے کو ایک جرم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خالصتان ریفرنڈم کو غیر قانونی اور دہشت گردی کی کارروائی قرار دے رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیامیں تقریبا 209,000سکھ رہتے ہیںجو کل آبادی کا 0.8فیصد بنتا ہے اور 2021کی مردم شماری کے مطابق ملک کا پانچواں سب سے بڑا اور تیزی سے ترقی کرنے والا مذہبی گروہ ہے۔آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم پر تبصرہ کرتے ہوئے ایس بی ایس نے محکمہ خارجہ اور تجارت (DFAT)کے ترجمان کے حوالے سے کہا کہ آسٹریلیا تنوع اور شمولیت کو اہمیت دیتا ہے، پرامن احتجاج میں شامل ہونے والے افراد کے حق کا احترام کرتا ہے اور عدم تشدد کے اظہار کی حمایت کرتا ہے۔ خالصتان کے بارے میںایس ایف جے کا کہنا ہے کہ یہ شمالی بھارت کی ریاست پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش کے کچھ علاقوں اور راجستھان اور اتر پردیش کے کئی اضلاع پر مشتمل ہوگا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: