بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہیے: چوہدری رمضان

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن چودھری محمد رمضان نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہیے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق چوہدری رمضان نے ضلع بڈگام میں ایک پارٹی کنونشن کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترقی اورخوشحالی کے لئے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امن ناگزیرہے اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کے لیے غربت اور بے روزگاری بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابلے اور سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مختلف حلقوں سے بات چیت کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ہوسابلے نے کہا تھا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ رابطے کے دروازے کھلے رکھنے چاہیے جبکہ جنرل نروانے نے لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ رابطوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں طرف کے عام لوگوں کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔چوہدری رمضان نے کہا کہ این سی کے صدر فاروق عبداللہ نے امن کی بحالی کے لیے بارہا دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دونوں ممالک کے درمیان امن نہیں ہو گا، کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی، انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید لوگ مذاکرات کی حمایت کریں گے۔این سی لیڈر نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں شراب پر پابندی کے حوالے سے اپنی پارٹی کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ منشیات اور شراب پر پابندی پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔








