بھارت

عدالت نے کمال مولا مسجد مقدمے میں مسلم فریق کے موقف کو کوئی اہمیت نہیں دی،مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی:  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمال مولا مسجد مقدمے میں مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فصلہ کر لیا۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک بیان میں مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخی شواہد ، تاریخی ریونیو ریکارڈ اورصدیوں پر محیط مسلم عبادتی تعلق کے خلاف ہے جبکہ یہ فیصلہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون کے بھی متصادم ہے ۔ انہوںنے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کا سابقہ موقف بھی اس جگہ کی مشترکہ مذہبی شناخت کو تسلیم کرتا ہے اور کئی دہائیوں تک اس مقام کو بھوج شالہ۔ کمال مولا مسجد کہا جاتا رہا جو اسکے متنازعہ اورمشترکہ مذہبی کردار کی سرکاری قبولیت تھی۔انہوںنے کہا کہ مسلم فریق کا عدالت میں موقف تھا کہ تاریخی ریونیو ریکارڈ میں اس عمارت کو مستقل طور پر مسجد کے طور پر درج کیا گیا ہے ، نیز ایسا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ اسی مقام پرراجہ بھوج کے دور کا سرسوتی مندر قائم تھا لیکن عدالت نے اس موقف کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔

ترجمان نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کمال مولا مسجد کمیٹی کے اس اعلان کی تائید کرتا ہے کہ وہ ہائیکورٹ کے جانبدار فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اور بورڈ اس سلسلے میںمسجد کمیٹی کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button