ممتابنرجی کی مغربی بنگال میں جاری مسماری اور بے دخلی مہم کی مذمت
کولکتہ: مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلی ممتا بنر جی نے ریاست میں جاری مکانات مسمارکرنے اور لوگوں کوبے دخل کرنے کی مہم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریب اور کمزور طبقات سیاسی تکبر کا نشانہ بن رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ٹیگور اور نیتا جی کی سرزمین پر عام شہریوں کے خلاف خوف، طاقت اور مسماری کی مہم کے ذریعے حکمرانی نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں بھی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، چھابڑی فروش، چھوٹے دکاندار اور کم آمدنی والے خاندان اپنی روزی روٹی اور وقار پر حملوں کا سامنا ہے۔ان کایہ بیان کولکتہ، ہاوڑہ اسٹیشن اور دیگر علاقوں میں جاری انسداد تجاوزات اور مسماری مہم کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں حکام نے متعدد عارضی مکانات کو ہٹانے کے لیے بلڈوزر چلایا ہے۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ہاوڑہ اسٹیشن کے اطراف بے دخلی کی کارروائیاں اور دیگر علاقوں میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال ایک ایسی طرز حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے جو انسانی ہمدردی کے بجائے نمائشی اقدامات پر مرکوز ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ حقیقی ترقی کا معیار کمزور طبقات کے ساتھ برتائو سے طے ہوتا ہے، نہ کہ انہیں کتنی تیزی سے ہٹایا جاتا ہے۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ثقافت، ہمدردی اور مزاحمت کی روایت رکھنے والی ریاست میں بلڈوزر حکمرانی کی زبان نہیں بن سکتے۔





_resources1_16a08521e2d_large.jpg?resize=618%2C464&ssl=1)
