بھارت

بھارت : حالیہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے ایک بھی مسلمان امیدوارکھڑا نہیں کیاتھا

ریاستی انتخابات سے بی جے پی کی مسلم دشمنی ایک بارپھر بے نقاب

نئی دہلی: بھارت میں 2026 میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مجموعی طورپر 104 مسلمان ارکان اسمبلی منتخب ہوئے لیکن ان میں سے ایک بھی بی جے پی کا نہیں ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ریاستوں آسام، مغربی بنگال، تامل ناڈو اور کیرالہ اورمرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات ہوئے۔انتخابات میں کھڑے ہونے والے 723 مسلمان امیدوار وں میں سے 104 امیدوار منتخب ہوئے جو 14.3 فیصد بنتاہے۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی کی شرح اچھی خاصی ہے۔وہاں 22 مسلمان ارکان اسمبلی منتخب ہوئے جن میں سے19کا تعلق کانگریس سے ہے۔ مغربی بنگال میں 40 مسلمان ا میدواروں نے انتخابات میں کامیابی حاصلی کرلی جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ترنمول کانگریس سے ہے۔۔کیرالہ میں 35 مسلمانوں نے انتخابات جیت لئے جن میں سے30کا تعلق یو ڈی ایف سے اور 5کا ایل ڈی ایف سے ہے۔تامل ناڈو میں 7مسلمان ارکان اسمبلی منتخب ہوئے جن کا تعلق ڈی ایم کے، آئی یو ایم ایل، ٹی وی کے اور کانگریس سے ہے۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں کوئی بھی مسلمان رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوا ہے۔ بی جے پی نے ان ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایک بھی مسلمان امیدوار کھڑا نہیں کیاتھا۔ بی جے پی نے مغربی بنگال اور آسام میں اقتدار حاصل کیاہے، تاہم اس کے تمام منتخب امیدوار غیر مسلم برادریوں سے ہیں۔ان انتخابات کے اعداد و شمارسے مسلمانوں کی غیر مساوی سیاسی نمائندگی ظاہرہوتی ہے۔ آسام اورمغربی بنگال میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی کے باوجود ان کی نمائندگی میں واضح کمی نظرآتی ہے۔ جمہوریت میں سیاسی نمائندگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور مسلمانوں کی کم ہوتی ہوئی نمائندگی دنیا کی سب سے بڑی نام نہادجمہوریت کے دوہرے معیار کی قلعی کھول دیتی ہے۔ بی جے پی نے مسلمانوں کو موثر سیاسی نمائندگی دینے سے انکار کر دیا ہے اوران انتخابات سے بی جے پی کی مسلم دشمنی ایک بارپھر بے نقاب ہوئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button