بھارت

آکسفورڈ اکنامکس کا بھارت میں مہنگائی تیزی سے بڑھنے کا انکشاف

افراط زر کی شرح ریزرو بینک آف انڈیا کے تخمینے سے بھی بڑھ سکتی ہے

نئی دلی: آکسفورڈ اکنامکس کے ویسٹ ایشیا ریسرچ ڈویژن نے بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہاہے کہ رواں سال کے آخر تک، افراط زر کی شرح ریزرو بینک آف انڈیا کے تخمینے سے بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آکسفورڈ اکنامکس میں ویسٹ ایشیا ریسرچ ڈویژن کی سربراہ الیگزینڈرا ہرمن پرساد نے ای ٹی وی انڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور رواں سال اس کی شرح ریزرو بینک آف انڈیا کے اندازوں سے بھی تجاوز کر سکتی ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ بھارت میں شدید مہنگائی کاباعث بن سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تیل کی قیمتوں کے اثرات براہِ راست بھی سامنے آتے ہیں، تاہم ان کے بالواسطہ اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں کیونکہ کاروباری اداروں کو پہلے ہی ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت اور سپلائی چین کے دبائو کا سامنا ہے۔ الیگزینڈرا ہرمن پرساد نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں صرف 10فیصد اضافہ آئندہ تین سے چار ماہ کے دوران بنیادی افراط زر میں 0.3سے 0.4فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے جبکہ 2026کی آخری سہ ماہی میں بنیادی افراط زر 6.4فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو آر بی آئی کے تخمینوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ صنعت، مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ، ریستوران، ہوٹلنگ، زراعت اور سپلائی چین سے وابستہ شعبے سب سے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ اشیائے خورونوش اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کے بھی خدشات ہیں ۔الیگزینڈرا ہرمن پرساد نے کہا کہ مون سون اور خریف کی فصلوں کے سیزن کے تناظر میں کھاد کی فراہمی ایک اہم مسئلہ بن سکتی ہے، جبکہ سپلائی میں رکاوٹیں اور طلب و رسد کے عدم توازن سے مزید دبائو پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آکسفورڈ اکنامکس کے مطابق مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے دبائو کے باعث بھارت کا مرکزی بینک رواں سال کے اختتام تک شرح سود میں دو مرتبہ 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ بھارتی اب تک عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا زیادہ بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کیا ہے، تاہم عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں یہ پالیسی برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button