عید الاضحیٰ پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے خوشی، قربانی، ایثار، محبت، اتحاد اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا عظیم دن ہے۔ یہ دن حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے، جس میں انسانیت، صبر، وفاداری اور اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خمم کرنے کا درس پوشیدہ ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان اس دن کو مذہبی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں،جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، گھروں میں خوشیاں بانٹتے ہیں، عزیز و اقارب سے ملتے ہیں اور غریبوں و محتاجوں کو اپنی خوشیوں میں شریک اور شامل کرتے ہیں۔ اگر دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہر مسلمان اس دن کی خوشیوں سے یکساں طور پر لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔ بالخصوص مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمان گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں عید کی خوشیاں بھارتی فوجی محاصروں، کریک ڈاؤن، چھاپوں، گرفتاریوں، جبر، خوف اور شہادتوں کی نذر ہو جاتی ہیں۔
کل عید الاضحیٰ کا دن ہے، دنیا بھر میں مسلمان عید کی خوشیاں منارہے ہیں، مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں خاندان ایسے ہوں گے جن کے گھروں میں عید نہیں بلکہ اپنے شہداء کی یاد میں آنسو ہوں گے۔ اس سرزمین پر ایسے والدین موجود ہیں جن کے نوجوان بیٹے بھارتی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے، ایسی مائیں ہیں جو برسوں سے اپنے لاپتہ بیٹوں کی واپسی کی منتظر ہیں، ایسی بیوائیں ہیں جنہوں نے اپنے شوہروں کو بھارتی ریاستی دہشتگردی کے نتیجے میں کھو دیا، اور ایسے بچے ہیں جو اپنے باپ کے سائے سے محروم ہو چکے ہیں۔
1989ء سے شروع ہونے والی تحریکِ آزادی کشمیر کو بھارت نے طاقت کے ذریعے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ان 36 برسوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والے خطوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لاکھوں بھارتی فوجی اہلکاروں کی موجودگی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کیا ہے۔ان 36 برسوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے گئے۔ ہزاروں نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا۔ ہزاروں افراد بھارتی عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنے۔ ہزاروں خواتین کی آبروریزی کی گئی اور انہیں اجتماعی زیادتی جیسے ہولناک جرائم کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزاروں مکانات کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا، جائیدادیں ضبط کی گئیں اور کشمیری عوام کی زمینوں پر قبضے کیے گئے۔یہ سلسلہ آج بھی کسی توقف کے بغیر جاری ہے۔بھارتی فوجی کارروائیوں میں نہ صرف نوجوان بلکہ بچے، خواتین اور بزرگ بھی محفوظ نہیں رہے۔ کئی ایسے واقعات دنیا کے سامنے آئے جنہوں نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، مگر عالمی طاقتوں کی خاموشی نے اہل کشمیر کے زخموں کو مزید گہرا کیا۔
دنیا بھر میں عید کو خوشی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں عید اکثر نئے خوف اور نئے محاصرے کی خبر لے کر آتی ہے۔ عید سے قبل بھارتی فوجیوں کی جانب سے سرچ آپریشنز، گھروں پر چھاپے، نوجوانوں کی گرفتاریاں اور کریک ڈاؤن معمول بن چکا ہے۔وادی کشمیر سے لیکر صوبہ جموں کے پونچھ، راجوری اور دوسرے علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں شدت برقرار ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں کئی مرتبہ عید کے اجتماعات پر پابندیاں لگائی گئیں۔ تاریخی جامع مسجد سرینگر کو بند کیا گیا۔ لوگوں کو نمازِ عید ادا کرنے سے روکا گیا۔ حریت قیادت کو گھروں یا جیلوں میں بند رکھا گیا تاکہ کوئی احتجاج یا آزادی کے حق میں آواز بلند نہ ہو سکے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کے عزیز بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ ان قیدیوں کو اکثر عید کے دن بھی اپنے اہل خانہ سے ملنے نہیں دیا جاتا ۔ مائیں اپنے بیٹوں کی تصویریں سینے سے لگا کر عید گزارتی ہیں، بچے اپنے قید یا شہید باپ کو یاد کرکے روتے ہیں، اور بیوائیں خاموشی سے اپنے درد کو چھپاتی ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی 36 برسوں میں کئی عیدیں ایسی گزری ہیں جب بھارتی فوجیوں نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ نوجوان شہید ہوئے، جنازے اٹھے اور یوں خوشیوں کے دن ماتم میں بدل گئے۔عید کے موقع پر شہداء کے قبرستانوں میں لوگوں کی بڑی تعداد اپنے پیاروں کی قبروں پر جاتی ہے۔ وہاں دعا بھی ہوتی ہے، آنسو بھی بہتے ہیں اور آزادی کے عزم کی تجدید بھی کی جاتی ہے۔ کشمیری عوام کیلئے عید محض مذہبی تہوار نہیں بلکہ قربانی، صبر اور جدوجہد کی علامت بن چکی ہے۔
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری خواتین کی بے حرمتی اور اجتماعی زیادتیوں کے سنگین واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ کنن پوشپورہ جیسے واقعات آج بھی اہل کشمیر کے دلوں میں تازہ ہیں، جہاں ایک سو سے زائد خواتین ،جن میں معصوم بچیوں سے لیکر 90 سالہ خواتین بھی بھارتی درندہ صفت اہلکاروں کے ہاتھوں اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنیں۔خواتین نہ صرف جسمانی تشدد بلکہ نفسیاتی اذیت کا بھی شکار رہیں۔ ہزاروں خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر لاپتہ ہیں اور انہیں “نصف بیوہ” کہا جاتا ہے۔ یہ خواتین نہ مکمل طور پر بیوہ کہلاتی ہیں اور نہ ہی شادی شدہ زندگی گزار پاتی ہیں۔ ان کی زندگی مسلسل انتظار، خوف اور غیر یقینی صورتحال میں گزرتی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیاں ایک بڑا انسانی المیہ بن چکی ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کو بھارتی فوجیوں کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد غائب کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے کئی افراد کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا ، کہ وہ زندہ بھی ہیں یا شہید کیے جاچکے ہیں۔کشمیری مائیں دہائیوں سے اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا ان گمشدگیوں پر آواز اٹھا چکی ہیں، مگر بھارت کی جانب سے مؤثر تحقیقات یا انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔یوں اہل کشمیر ایک دردناک کرب سے گزر رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائیدادو املاک کی ضبطی اور گھروں کی مسماری کی اپنی جابرانہ پالیسی میں شدت لائی ہے۔ آزادی پسند رہنماؤں، کارکنوں اور عام شہریوں کی زمینیں اور مکانات مختلف بہانوں سے قبضے میں لیے جا رہے ہیں۔کئی خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا۔ بعض علاقوں میں بلڈوزر کارروائیاں کی گئیں اور یہ اب معمول بنتی جارہی ہیں ۔ اہل کشمیر کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کی شناخت، معیشت اور مزاحمت کو ختم کرنے کی سفاکانہ کوششیں ہیں۔5 اگست 2019ء کو بھارت نے یکطرفہ طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد کشمیری عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔اس غیر قانونی اور غیر جمہوری فیصلے کے بعد مقبوضہ وادی کشمیر میں طویل فوجی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا، انٹرنیٹ معطل رکھا گیا، ہزاروں سیاسی کارکن گرفتار کیے گئے اور لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔کشمیری عوام کا مؤقف ہے کہ بھارت آبادی کا تناسب تبدیل کرکے مسلم اکثریتی علاقے کی شناخت ختم کرنا چاہتا ہے۔ نئی ڈومیسائل پالیسیوں کے ذریعے غیر کشمیری ہندوؤں کو آباد کرنے کے مستند خدشات کیساتھ ساتھ ثبوت بھی سامنے آئے۔لاکھوں ڈومیسائل کا اجراء عمل میں لایا گیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاوہ بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہندوتوا نظریے کے فروغ کے بعد مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات میں خوفناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر گائے کے ذبیحہ اور بڑے جانوروں کی قربانی پر مختلف بھارتی ریاستوں میں سخت قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں۔ مسلمانوں کو قربانی کیلئے شدید مشکلات در پیش ہیں۔ کئی مقامات پر گاؤ رکھشا کے نام پر ہجوم مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔مسلمان تاجروں کے بائیکاٹ کی مہمات چلائی جاتی ہیں۔ مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حجابی پہننے والی طالبات کو تعلیمی اداروں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ناقدین کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس سے وابستہ ہندوتوا تنظیمیں بھارت کو ایک ہندو راشٹریہ میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ اس نظریے کے تحت مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔شہریت ترمیمی قانون (CAA)، این آر سی، بابری مسجد کیس، حجاب تنازعہ اور مذہبی مقامات کے تنازعات جیسے معاملات نے بھارتی مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید بڑھادیا۔کئی بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ البتہ بھارت اور اس کے ادارے ٹس سے مس نہیں ہورہے۔
عید الاضحیٰ صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ حق، صبر اور اللہ کی رضا کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کا درس دیتی ہے۔ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی جذبے کے تحت اپنی جانوں، گھروں، کاروبار اور آرام کو قربان کر رہے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جدوجہد محض سیاسی نہیں بلکہ اپنے حقِ خودارادیت، شناخت اور آزادی کے حصول کیلئے ہے۔مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کی خاموشی بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اہل کشمیر حقِ خودارادیت سے ہنوز محروم ہیں ۔بین الاقوامی طاقتیں اکثر اپنے سیاسی و معاشی مفادات کی وجہ سے کھل کر مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس سامنے آنے کے باوجود عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔شدید جبر کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ شہادتوں، گرفتاریوں اور پابندیوں کے باوجود آزادی کا مطالبہ آج بھی اہل کشمیر کے سینوں میں موجزن ہے۔شہدا نے جو شمع جلائی ،اس کی روشنی ماند نہیں پڑی۔کشمیری نوجوان نسل اپنے تشخص اور حقوق کیلئے آواز بلند کر رہی ہے۔ خواتین، طلبہ، بزرگ اور بچے سب کسی نہ کسی شکل میں مزاحمت کا حصہ ہیں۔
عید الاضحیٰ کا پیغام یہی ہے کہ ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے حق اور انصاف کیلئے ڈٹے رہنا چاہیے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر سب کچھ قربان کرنے کی عظیم مثال قائم کی۔جو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کیلئے روشنی اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔کشمیری عوام بھی اپنی سرزمین، شناخت اور حقوق کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کی جدوجہد دنیا کیلئے ایک یاد دہانی ہے کہ آزادی، عزت اور انصاف کیلئے قربانی دینا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق بحال کرے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کرے اور مذہبی آزادی کا احترام کرے۔اسی طرح بھارت کے اندر مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ مذہبی ہم آہنگی، انصاف اور مساوات کا ماحول قائم ہو سکے۔
اب جبکہ دنیا بھر کے مسلمان عید الاضحیٰ کی خوشیاں منارہے ہیں تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہزاروں گھرانوں میں شہداء کی یادیں تازہ ہورہی ہیں ۔عید قربان صبر اور استقامت کا نام ہے، اور کشمیری عوام گزشتہ 36 برسوں سے انہی اقدار کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ان کی قربانیاں دنیا کے ضمیر کیلئے سوال ہیں کہ آخر کب تک ایک قوم اپنے بنیادی حق خودارادیت، آزادی اور عزت کیلئے خون بہاتی رہے گی؟ یہ عید جہاں دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے خوشی کا پیغام لاتی ہے، وہیں ، مظلوم کشمیری عوام کی قربانیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ حقیقی خوشی صرف اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب ظلم، جبر، ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ اور ہر انسان کو آزادی، عزت اور امن کیساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔جس کے بعد وہ اللہ وحدہ لاشریک کی کبریائی کا ڈنکا بجالائیں،جس میں کسی خوف کا کوئی شائبہ نہ ہو۔








