مضامین

شہداۓ جموں _ بھارت پر فرد جرم عاٸید کیوں نہیں کیا جاتا

تحریر: محمد اقبال

٫٫ شہدائے جموں "۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کا خاتمہ اور ہندو ریاست کا قیام آر ایس ایس کے شیطانی ایجنڈے میں ہمیشہ سے سر فہرست رہا ہے ۔ اس میں فسطایء اور مسلم کش منصوبے کا آغاز 1947 کو نومبر کے پہلے ہفتے میں اس وقت ہؤا جب بھارتی فوج ہندو بلوائیوں اور ڈوگرہ فورسز نے لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کے علاوہ لاکھوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا ۔انسانی تاریخ کے اس بدترین المیہ کے دوران قتل و غارت ، لوٹ مار ، مسلمانوں کی بستیوں کو نزر آتش کرنے کے علاوہ خواتین کی آبرو ریزی کی گئی اور لاتعداد خواتین کو اغوء کرکے غائب کر دیا گیا ۔ اس قتل عام کے بعد جموں میں مسلمانوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرکے ہندوؤں کی بستیاں قائم کی گئیں اور اسی طرح جموں میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا اس خونی کھیل کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ 36 برسوں کے دوران قابض بھارتی فورسز اہلکاروں نے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو شہید، پانچ لاکھ سے زائد گھروں کو تباہ ڈیڑھ لاکھ بچوں کو یتیم اور چالیس ہزار سے زائد خواتین کو بیوہ بنا دیا۔

5 اگست 2019 سے مودی کی زیر قیادت راشٹریہ سیوک سنگھ کی فسطایء حکومت نے کشمیریوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور جموں وکشمیر کو ہندو ریاست بنانے کا کام مزید تیز کر دیا۔ اسی مقصد کے لئے جہاں کشمیریوں کو گزشتہ 6 سال سے دس لاکھ سے زائد بھارتی فوج کے محاصرے میں رکھا گیا ہے اور ان پر لرزہ خیز مظالم ڈھائے جاریے ہیں وہاں نیا ڈومیسائل قانون اور لینڈ لاء سمیت درجنوں ایسے قوانین نافذ کئے گئے ہیں جن کا مقصد جموں وکشمیر میں بھارتی ہندوؤں کی آبادکاری کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں آ بادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اور کشمیریوں کی زمینوں اور وسائل پر قبضہ کرنا ہے مودی کی سربراہی میں آر ایس ایس کی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں پھر ایک بار 1947 کے طرز پر کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کرنا چاہتی ہے ۔

ہندو توا کے علمبرداروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جموں و کشمیری عوام ان کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ساتھ ہی عالمی برادری کی بھی یہ زمہ داری ہے کہ وہ ہندو توا دہشتگردی کو رکوانے کے لئے آگے آےء۔۔ وادی کشمیر کے ایک صحافی کہتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان تقسیم ہونے کے بعد پاکستان 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آیا ۔ پاکستان کا وجود میں آنا بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کے لئے ناقابلِ برداشت تھا ۔ ان انتہا پسند کی سرپرستی وزیر داخلہ پٹیل اور وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ حکومت میں بھی موجود تھے ۔ بھارتی حکومت نے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کی پس پردہ حوصلہ افزائی کرکے مسلمانوں کا قتل عام کرایا ۔ یہ لہر راشٹریہ سیوک سنگھ اور جن سنگھ کے ہاتھوں جموں کے صوبہ تک پہنچائ گیء۔ ان دونوں تنظیموں کی حوصلہ افزائی ڈوگرہ حکومت کررہی تھی ۔ وادی کشمیر اور لداخ میں مسلمانوں کی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے میں ہندو انتہا پسند تنظیمیں ناکام رہیں ۔لیکن جموں ڈویژن کے اندر حکومتی سرپرستی میں آر ایس ایس اور جن سنگھ مسلمانوں کی قتل و غارتگری کرنے میں کامیاب رہے ۔ جن علاقوں میں مسلمان اپنے اہل و عیال اور احباب کو بچانے میں کامیاب ہوگئے انہوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا کچھ لوگ جموں شہر کی طرف چل پڑے اور کچھ پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔ جموں شہر کی مسلمان فلاحی تنظیموں نے ان کے رہنے اور کھانے پینے کا بندوست کیا ۔ اور کچھ لوگ پاکستان کی طرف انفرادی طور پر چل پڑے ۔ جموں شہر میں مسلمان اکثریت میں تھے ۔ ان سب لوگوں نے پاکستان ہجرت کرنے کا مصمم ارادہ کیا اور انتظامات کو آخری شکل دی ۔ ٹرانسپورٹ کی کمی تھی ۔ زیادہ تر لوگ پیدل سفر کرنے پر تیار ہوےء۔ ایک منظم پروگرام کے تحت مسلمان پاکستان کی طرف روانہ ہونا چاہتے تھے ۔ اسی دوران ڈوگرہ انتظامیہ نے ایک سازش کے تحت اعلان کیا کہ پاکستان جانے والے خواہشمندوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے ۔، اس کے بعد انہیں ایک خاص مقام پر جمع ہونے کے لئے کہا گیا ۔ یہاں سے بسوں اور ٹرکوں میں لاد کر آگے انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یکم اکتوبر سے ہی جموں شہر کے اردگرد مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا تھا اور نومبر کے مہینے تک تمام ضلعوں میں مسلمان بستیاں نیست و نابود کی گئیں ۔ انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں دریائے توی کے ارد گرد شہید ہونے والے بے گناہ مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں کی شہادت کی گواہ دریائے توی کے دو کنارے ، اس میں بہنے والا پانی اور اوپر سے چلنے والی ہوا ہے ۔ توی کے علاقے میں ہزاروں بے گناہوں کا خون کیا گیا ۔ نیشنل کانفرنس کے جموں میں منعقد ہونے والے ایک کنونشن میں شرکت کرنے والے سنگرامہ سوپور کے ایک راہنما عبد الخالق لون کہتے ہیں جب ہم چند ہمخیال دوست کنونشن سے فارغ ہو ہو کر دریائے توی کے کنارے پر ایک اجڑی ہوئی مسلمان بستی کی طرف گئے وہاں فضا میں عجیب و غریب آوازیں گونج رہی تھیں ۔ ہم خوفزدہ ہو کر اپنے کیمپ کی طرف چلے گئے ۔ کافی دنوں تک یہ خوف ہم سب دوستوں پر طاری رہا ۔ یہ تاریخ کا بہت بڑا ظلم تھا ۔،، ڈوگرہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ مقام پر ہزاروں مسلمان پاکستان جانے کے لئے جمع ہوئے ۔جموں شہر سے روانہ ہونے والے قافلوں میں مرد، عورتیں ، بچے بوڑھے ، جوان ، امیر غریب سب دل ” پاکستان زندہ باد,, پاکستان کا مطلب کیا, کیا لا الہ الاللہ ،، کے کلمات زبان پر ورد کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔ 5 اور 6 نومبر 1947 کو پاکستان براستہ سیالکوٹ روانہ ہونے والے قافلوں کو بے دردی سے ایک منظم سازش کے تحت قتل کیا گیا ۔ پاکستانی سرحد کے قریب ایک جگہ ان قافلوں کا راستہ روکا گیا ۔ شرکاےء قافلہ کو بندوقوں ، شمشیروں ، نیزوں ، کلہاڑیوں اور چھریوں سے تہہ تیغ کیا گیا ۔ قاتلوں میں ڈوگرہ حکومت کے اہلکاران ، آر ایس ایس ، بجرنگ دل ،جن سنگھ اور دیگر انتہا پسند گروہ ملوث تھے ۔ بھارتی پنجاب کے انتہا پسند ہندو اور سکھ بھی ان قاتلوں میں شامل تھے ۔ مشرقی پنجاب اور دہلی کے علاقوں میں اس وقت فرقہ وارانہ فسادات عروج پر تھے ۔ ان علاقوں سے انتہا پسند ہندو جموں آکر آر ایس ایس اور جن سنگھ کی مسلم کش سازش میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ۔ پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت قافلوں پر موجود نوجوان اور جسمانی طور پر طاقتور افراد کو مارا گیا ۔ خواتین کو اغوء کیا گیا ۔

قارئین کرام! جموں کے مسلمانوں کے قتل عام اور یکطرفہ فسادات تاریخ کے بدترین واقعات ہیں ۔ پورے جموں ڈویژن میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے ہی مکانوں میں آگ لگا کر جلادیا گیا ۔ قیمتی اشیاء چھین لی گئیں ۔ خواتین کی عصمت تار تار کی گئی ۔ مسلمانوں کی جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا جو ابھی تک بدستور قائم ہے ۔ اکتوبر نومبر 1947 کے مہینوں میں فسادات اور ظلم نے ایک عام آدمی سے لے کر قومی راہنما چودھری غلام عباس جیسے لوگوں کو بھی زخمی کردیا ۔ ان فسادات میں مسلم اکثریت والا شہر جموں کا ہر گھر تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ ۔ سوال یہ ہے کہ اس تباہی اور بربادی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کا ایک ہی جواب ہے ” بھارت” کیوں کہ 13 جولائی 1931 کے قتل عام کی زمہ داری مملکت کشمیر کی ” ظالم و جابر” ڈوگرہ حکومت تھی ۔ جبکہ 6 نومبر 1947 سے لے کر آج تک مسلم قتل و غارتگری کی زمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے ۔ کیوں کہ فسادات سے 9 روز قبل 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر فوجیں اتار کر قبضہ کیا تھا اور ڈوگرہ انتظامیہ کی باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں تھی ۔ اگر بھارت چاہتا تو کسی شہری کا ناخن تک نہ ٹوٹتا اور کسی کے چھت کی گھاس کا تنکا بھی نہ اڑتا مگر بھارت نے جموں کے اندر مسلمانوں کا قتل عام ایک طے شدہ سازش کے تحت کرایا ۔ مسلمانوں کو تہہ تیغ کرکے جموں کو ہندو اکثریتی ڈویژن بنادیا گیا ۔

بھارت نے جموں کو اپنے لئے کھیل کا میدان بنا دیا ۔ وادی کشمیر کے اندر مسلمان اکثریت میں ہونے کی وجہ سے بھارت جو کھیل وہاں نہ کھیل پاتا ہے اسے جموں میں کھیلتا ہے ۔ قارئین کرام ۔ 78 برس قبل جموں کے فسادات رونما ہوئے ۔ قوموں کی تاریخ جدو جہد میں یہ کؤی زیادہ عرصہ نہیں ہے ۔ 13 جولائی 1931 کے سانحہ اور 6 نومبر 1947 کے دل خراش اور وحشیانہ قتل عام کے متاثرین اور چشم دید گواہ اب بھی زندہ اور صحیح سلامت ہیں ۔ ان کی آنکھوں سے وہ تڑپتی جانیں ، اغوا شدہ عورتیں کسی بھی طرح اوجھل نہیں ہوں گی ۔ وہ جموں کے اس سانحے پر گواہی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ اگر یہودیوں ، سربوں اور نازیوں پر کئے گئے مظالم پر موجودہ دور میں کسی ملک پر سپر پاور کی طرف سے فرد جرم عائد کر کے پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں تو بھارت پر جموں کے مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے فرد جرم عائد کیوں نہیں کیا جاسکتا ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button