آزاد کشمیر پر بھارتی پروپیگنڈا اور زمینی حقیقت: مقبوضہ و آزاد جموں و کشمیر کا تقابلی جائزہ
ارشد میر
مسئلہ کشمیر محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، حقِ خودارادیت اور دو مختلف نظاموں کے ٹکراؤ کی ایک داستان ہے۔ جب ہم لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف، یعنی بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر کا موازنہ کرتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان دونوں خطوں میں "زمین آسمان کا فرق” ہے۔ ایک طرف سنگینوں کے سائے میں سسکتی ہوئی انسانیت ہے جہاں جبر و استبداد کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنایا گیا ہےاور دوسری طرف ایک ایسا معاشرہ ہے جو چند انتظامی و سیاسی شکایات کے باوجود بنیادی انسانی آزادیوں، امن اور سکون کا سانس لے رہا ہے۔ ایک طرف کے لوگ اپنے آپ کو محکوم و مجبور سمجھ کر موجودہ اسٹیٹس کوکسی طور پر بھی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور اسکے خاتمے کے لئے دہائیوں سے مزاحم ہیں جبکہ دوسری طرف کے لوگ اپنے ساتھ ” آزاد” کے نام پر خوش و نازاں ہیں ۔ دونوں خطوں کے یہ زمینی حقائق اور لوگوں کا بالکل مختلف احساس بہت بڑے تفاوت کی داستان سنا تا ہے۔ دونوں خطوں کا تقابلی مطالعہ جنوبی ایشیا کی سیاست اور کشمیر تنازعہ کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے وہاں نافذ العمل جبر اور نو آبادیاتی نظام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیے کو دیکھنا ضروری ہے۔ بھارتی تسلط کے تحت یہ خطہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی زون میں شامل ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں تقریباً دس لاکھ بھارتی فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ ایک چھوٹے سے خطہ زمین میں اتنی بڑی تعداد میں فوج کی موجودگی کا مقصد امن و امان قائم کرنا نہیں بلکہ مقامی آبادی کو اجتماعی سزاء دینا، خوف و ہراس کے ذریعے دبا نا اور حق خود اردایت کے مطالبہ سے دستبردار کراکے بھارتی استعمار کے سامنے سرنڈر کرانا ہے۔ ۔ اس فوج کوآرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ،پبلک سیفٹی ایکٹ اوراَن لافُل ایکٹیویٹیز پریوینشن ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت لا محدود اختیارات اور مکمل عدالتی استثنیٰ حاصل ہے۔ ان قوانین کی آڑ میں کسی بھی کشمیری کو ماورائے عدالت قتل کیا، بغیر کسی وارنٹ یا ٹرائل کے مہینوں اور سالوں جیل میں بند رکھا اور گھروں کو اڑادیا جاتا ہے۔
۱۹۹۰ء کے بعد سے شروع ہونے والی تحریکِ آزادی کو کچلنے کے لیے بھارت نے جو ظلم روا رکھا، اس کے اعداد و شمار روح کو کانپا دینے والے ہیں۔ بھارتی فوج نے اب تک تقریباً ۱ لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ دو لاکھ سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے تقریباً 10 ہزار کوزیرِ حراست غائب کردیا گیا جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ پونے دو لاکھ سے زائد گھروں، دکانوں اور دیگر عمارات کو تباہ کیا جا چکا ہے ۔ روزانہ کی بنیاد پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ قابض فوج گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتی ہے۔ لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور خواتین پر جنسی حملے ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ کشمیری نفسیات واعصاب کی یہ صبر آزما جنگ ہار جائیں۔ اب تک تقریباً ۱۱ ہزار خواتین کی عفت وعصمت پر حملے کیے گئے یا ان کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ کنن پوش پورہ کپواڑہ ،چوٹہ بازار سرینگر اور زینہ پورہ شوپیاں کے لرزہ خیز واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں جہاں بھارتی فوج نے خواتین کی اجتماعی عزت ریزی کی۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں گواہی دیتی ہیں کہ قابض بھارتی فوج کشمیری خوااتین کی عزت ریزی کو منصوبہ بند اندار میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے تاکہ کشمیریوں کو نفسیاتی گھاؤ لگاکر مزاحمت کی باطنی قوت ختم کی جائے۔بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجہ میں گذشتہ ساڑھے تین دہائیوں کے عرصہ میں ۱ لاکھ ۱۰ ہزار بچے یتیم اور تقریباً ۳۴ ہزار خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں ہر کلومیٹر پر قائم فوجی چیک پوسٹیں شہریوں کے لیے روزمرہ کی تذلیل کا سبب ہیں۔ لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر سخت سردی یا گرمی میں شناختی پریڈ کرائی جاتی ہے۔ ہزار دو ہزار کلو میڑ دور کا فوجی جدی پشتی رہنے والے کشمیری کو گھر سے نکال کر اسکی شناخت پوچھتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ ماورائے جعلی یا اصلی مقابلوں میں شہید کیے جانے والے کشمیری نوجوانوں کی لاشیں اب ان کے والدین کے حوالے نہیں کی جاتیں بلکہ انہیں سو کلو میٹر دور جنگلی یا پہاڑی علاقوں میں گمنام قبروں میں دفن کر دیا جاتا ہےجس سے ماؤں کو اپنے بچوں کا آخری دیدار تک نصیب نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس آزاد کشمیر کے زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں جہاں اسوقت بھی مثالی امن قائم رہا جب بھارتی سرپرستی میں جاری بدترین دہشت گردی پاکستان کے بیشتر علاقوں کو متاثر کررہی تھی۔ آزاد کشمیر کے لوگ اپنی اس آزاد حیثیت پر دل سے مطمئن اور خوش ہیں۔آزاد کشمیر کے شہروں اور دیہات میں مقبوضہ کشمیر کی طرح ہر موڑ پر کوئی فوجی چیک پوسٹ نہیں ہے۔ عوام بلا خوف و خطر رات گئے تک اپنی سماجی اور تجارتی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ یہاں نہ تو روزانہ کی بنیاد پر گھروں کے محاصرے ہوتے ہیں اور نہ ہی تلاشی کی کارروائیاں۔آزاد کشمیر کا کوئی بھی شہر یا گاؤں مقبوضہ کشمیر کی طرح "شہداء کے قبرستانوں” سے آباد نہیں ہے۔ ہر میل پہ فوجی چوکیاں قائم نہیں ہیں جہاں سے لوگوں کو شناخت کے نام پر توہین و تذلیل کے مراحل سے گذارا جاتا ہو۔ یہاں نوجوانوں کو ریاستی جبر کے تحت ماورائے عدالت قتل نہیں کیا جاتااور نہ ہی یہاں کے ماحول میں موت کا وہ خوف طاری ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔آزاد کشمیر میں کوئی کرفیو ہے اور نہ ہی AFSPA، POTA،TADA ، UAPA،PSAجیسے ڈریکونی قوانین نافذ ہیں۔ عوام کو بنیادی آئینی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور احتجاج کا حق حاصل ہے۔ اگر صرف اس بات پر ایک غیر جانبدارانہ ریفرنڈم کرایا جائے کہ "کیا آزاد کشمیر واقعی آزاد ہے؟” تو یہاں کے عوام کے دل اور ان کی زندگی گواہی دے گی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں مکمل طور پر آزاد اور خودمختار زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی جمہوری اور آزاد معاشرے میں عوام کو اپنے معاشی اور انتظامی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا پورا حق ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر کے اندر "جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی” کی جانب سے بجلی کے بلوں، آٹے پر سبسڈی اور دیگر انتظامی اصلاحات کے لیے جو احتجاجی تحریک چلائی گئی وہ اس خطے کی جمہوری آزادی کی عکاسی کرتی ہے۔اگرچہ اس تحریک کے قائدین نے ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشتعال پھیلایا جس سے انتظامی اور اصلاحاتی نوعیت کی یہ ایک معمولی تحریک تشدد ذدہ ہوگئی جس کا خطے کے عوام کو نقصان ہوا ہے تاہم بھارت کی طرف سے اس تحریک پر ہوہوکار مچانا اور اسکا مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کے ہم پلہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرنا، انتہائی بھونڈا پن اور شیطانی طرز عمل ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا متشدد طریقہ کار یقنا قابل اعتراض ہے کیونکہ مطالبات کو ہمیشہ مثبت اور پرامن انداز میں سامنے لانا چاہیے تھاتاہم بھارت کا اسکو کیش کرنے کا طریقہ اس سے کہیں زیادہ قابل اعتراض اور اشتعال انگیز ہے۔
بھارت نے آزاد کشمیر کےمعاشی اور انتظامی نوعیت کے اس داخلی معاملہ پر اس طرح پروپیگنڈا کیا جیسے یہ کوئی بغاوت ہو رہی ہو۔ اول تو ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں نے واشگاف الفاظ میں بھارت کو ازلی اور بدترین دشمن قرار دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ احتجاجی تحریک کسی طور پر پاکستان کے خلاف نہیں ہے۔ اور دوسرا اسکا کسی اعتبار سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ حقائق سے بھری پڑی ہے کہ کشمیری چاہئے مقبوضہ کشمیر میں رہتا ہو، آزاد کشمیر میں یا دنیا کسی بھی حصے میں ، بھارت سے نفرت اور پاکستان سے محبت اسکے ڈی این اے میں شامل ہے۔ اگر اسکی قومی شناخت کی صرف 3 علامات کو گنا یا طے کیاجائے تو ان میں سے ایک بھارت سے نفرت ہوگی۔ بھارت اس شیطانی پروپیگنڈا سے نہ تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہائیوں سے جاری قتل وغارت، جبر و اکراہ، اورانسانیت کُشی کو چھپا سکتا ہے اور نہ ہی کشمیری عوام کے جذبات کو ہائی جیک کرکے اپنے خلاف جاری حقیقی عوامی مزاحمت کے مقابل کوئی جعلی یا درآمد شدہ مزاحمتی تحریک کھڑی کر سکتا ہے۔
دھونس ، بدمعاشی اور بے شرمی کا عالم دیکھئے کہ بھارت کا گودی میڈیا آزاد کشمیر کی صورتحال پر پاکستان اور بطور خاص آزاد کشمیر کے صحافیوں کو آن لائن لیتا ہے اور جب وہ "آزاد کشمیر” کا لفاظ استعمال کرتے ہیں تو انھیں ٹوکا اور دانٹا جاتا ہے، ان کی آواز کو کم کیاجاتا ہے اور جب وہ بھارت کو آئینہ دکھانے سے باز نہیں آتے تو ان کو آف لائن کردیا جاتا ہے۔ آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران جب پاکستان کی سابق کپتان اور کمنٹریٹر ثنا میر نے کمنٹری کے دوران پاکستانی ٹیم میں شامل آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی کھلاڑی کا ذکر کرتے ہوئے "آزاد کشمیر” کا لفظ استعمال کیا تو بھارتی لابی ، براڈکاسٹرز اور سوشل میڈیا کے باؤلوں کی طرف سے انہیں شدید ہدف بنایا گیا ۔ ان کے ساتھ اس معاملہ پر یہ سلوک دوسری بار ہوا۔
بھارت جان بوجھ کر آزاد کشمیر کے لفظ کو متنازعہ بناتا ہے جبکہ چند سال پہلے تک اسکا میڈیا اور سرکاری ادار ےآزاد کشمیر کو آزاد کشمیر ہی کہتے اور لکھتے تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ بھارت نے دشمنی یا اپنے شیطانی بیانیہ کو حساسیت کی اس حد تک بڑھا دیا کہ اب "آزاد کشمیر” کے لفظ سے وہ تلملا جاتا ہے۔تاہم یہ لفظ اس کے اس جھوٹے بیانیے کی نفی کرتا رہے گا کہ ریاست جموں و کشمیر اس کا "اٹوٹ انگ” ہے۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کا کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر ایک مقفل علاقہ ہے، ایک مقتل گاہ ،ایک کھلی جیل ہے جہاں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی، جہاں کی مائیں اپنے بچوں کی لاشوں کے لیے ترستی ہیں اور جہاں عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف، آزاد کشمیر اپنی تمام تر سیاسی، معاشی یا انتظامی شکایات کے باوجود ایک آزاد، جمہوری اور پرامن خطہ ہےجہاں عوام کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی آزادی حاصل ہے جو کہ مقبوضہ کشمیر میں ناممکن ہے۔ آزاد کشمیر کے اندرونی معاشی اور انتظامی معاملہ کو بنیاد بنا کر بھارت اپنے ریاستی جبر کو چھپا نہیں سکتا۔ زمینی حقائق گواہ ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے اس پار اندھیرا ہے اور اس پار آزادی کی روشنی ہے ،وہ روشنی جس میں آزاد خطے کے غیور لوگ اپنی پہچان کرتے ہیں۔








