مقبوضہ کشمیر: کینسر کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ
قابض حکام نے کینسر کوقابل اطلاع بیماری قراردیدیا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر قابض حکام نے کینسر کو باضابطہ طور پر قابل اطلاع بیماری قرار دے دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہاگیاہے کہ تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں، لیبارٹریوں، کلینکوں، نرسنگ ہومز، میڈیکل کالجوں اور تشخیصی مراکز کو کینسر کے ہر کیس کی رپورٹ متعلقہ حکام کو فراہم کرنا لازمی ہوگا۔طبی ماہرین کے مطابق وادی کشمیر سمیت پورے مقبوضہ علاقے میں پھیپھڑوں، چھاتی، منہ، معدے اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث کینسر صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ بن گیاہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ماضی میں مربوط اور لازمی رپورٹنگ نظام نہ ہونے کے باعث درست اعداد و شمار جمع کرنے اور موثر پالیسی سازی میں مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔ متعدد مریض علاج کے لیے نجی ہسپتالوں یا مقبوضہ جموں و کشمیر سے باہر بھارت کے شہروں کا رخ کرتے تھے، جس سے کیسز کی مکمل رپورٹنگ ممکن نہیں ہو پاتی تھی۔جموں و کشمیر اسمبلی میں رواں سال پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران خطے میں کینسر کے 32ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں اکثریت وادی کشمیر سے تعلق رکھتی ہے۔قابض حکام نے اعتراف کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں کینسر کے مریضو ں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کینسر کو قابل اطلاع بیماری قرار دینے سے نگرانی کا نظام بہتر ہوگا، درست ڈیٹا دستیاب ہوگا اور بڑھتے ہوئے صحت بحران سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔







