موددی جی بھارت کے نوجوانوں کو ان پڑھ اور بے روزگار رکھنا چاہتے ہیں،کانگریس
نئی دلی :
بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے تعلیمی نظام میں مبینہ خامیوں پر مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال کیاہے کہ کیا نریندر مودی ملک کے نوجوانوں کو ان پڑھ، جاہل اور بے روزگار رکھنا چاہتے ہیں ؟
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے میڈیا پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے ایک بیان میں نیٹ پیپر لیک ہونے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ دو برسوں کے دوران، لاکھوں نوجوان این ای ٹی، سی یو ای ٹی، جے ای ای مینس اور دیگر امتحانات میں دھاندھلی کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ مسئلہ اب صرف مقابلے کے امتحانات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسکولوں کی تعلیم تک پھیل گیا ہے۔انہوں نے او ایس ایم سسٹم کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے طلبہ کی جوابی شیٹس سی بی ایس ای کے ایگزامینر کو بھیجی جاتی تھیں، جہاں ان کی جانچ پڑتال کی جاتی تھی۔ تاہم اس سسٹم کو تبدیل کر دیا گیا۔ اب جوابی پرچوں کو اسکین کرکے پورٹل پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ماہرین تعلیم اور دیگر ماہرین نے او ایس ایم نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ مودی حکومت نے اسے کیوں نظر انداز کیا؟ نریندر مودی حکومت نے ایک کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے قواعد کیوں تبدیل کیے؟ سی او ای ایم پی ٹی اور بی جے پی کے درمیان کیا تعلق ہے کہ اسے ٹی سی ایس پر ترجیح دی گئی؟ کیوں مودی حکومت ملک کے تعلیمی نظام کو پیچھے دھکیل رہی ہے؟







